شہدآء الحق

by Other Authors

Page 94 of 173

شہدآء الحق — Page 94

۹۴ جاویں۔( زوال غازی صفحه ۱۴۳-۱۴۴) احمدیان خوست کا رویہ : آغاز بغاوت میں باغیان منگل نے احمدیان سمت جنوبی کو بھی شرکت بغاوت کی دعوت دی۔جس پر ان احمدیوں نے مہلت بغرض جواب طلب کی۔اور ایک نمائندہ ہمارے پاس پشاور روانہ کیا۔کہ جماعت احمدیہ کا اس بارہ میں کیا احکام اور رویہ ہو گا۔ہم نے ان کو اچھی طرح ذہن نشین کرایا کہ ہر احمدی پر بادشاہ وقت کی اطاعت واجب ہے۔اور کسی حالت میں بھی بادشاہ کے خلاف بغاوت درست نہیں۔اس واسطے وہ باغیوں کا ساتھ نہ دیں۔چنانچہ انہوں نے احمدیان خوست کو مطلع کیا۔کہ وہ بغاوت میں شمولیت نہ کریں۔اور وہ الگ رہے اور باغیوں کو جواب دے دیا۔باغیوں نے جب دیکھا۔کہ احمدی ان کا ساتھ نہیں دیتے تو انہوں نے خود احمدیوں کے خلاف کارروائی کرنی لازمی سمجھی۔چنانچہ انہوں نے سمت جنوبی کے احمدیوں کی جائدادوں کو اور املاک کو خوب لوٹا۔اور لتاڑا۔اور ان کو طرح طرح کی ایذا دی۔باغیوں نے یہ بھی کہا۔کہ امیر امان اللہ خان بھی قادیانی ہے۔کیونکہ احمدی اس کے خلاف بغاوت میں شریک نہیں ہوئے۔قیام لوئی جرگہ: جس وقت امیر امان اللہ خان نے ملا عبداللہ عرف ملائے لنگ اور اس کے داماد ملا عبدالرشید عرف ملا دبنگ کو اور دوسرے سر کردگانِ منگل کو بغرض مشورہ و گفتگو کا بل بلوایا۔اور لوئی جرگہ کی بنیا د رکھی۔( زوال غازی صفحه ۴۳) تو اس جرگہ میں بدورانِ گفتگو ملا عبداللہ نے یہ بات پیش کی۔کہ ہمارا یہ خیال ہے۔کہ امیر امان اللہ خان قادیانی ہو گیا ہے اس وجہ سے اس نے ایک