شہدآء الحق — Page 93
۹۳ سے روگردان ہو چکا ہے۔اور اس کے بدلے نظام نامہ جاری کرایا ہے جو اس کا خود ساختہ ہے۔اور اس کے بعض دفعات کو علماء سمت جنوبی نے خلاف شریعت قرار دیا۔اور انہوں نے امیر امان اللہ خان پر فتویٰ کفر دے دیا تھا۔اور اس کے خلاف بغاوت کا نام جہاد رکھا یہ واقعہ ۱۹۲۴ء مطابق ۱۳۴۲ھ کا تھا۔خوف زوال مملکت : عزیز ہندی اپنی کتاب زوالِ غازی میں لکھتا ہے۔کہ اس بغاوت کا مرکز خوست کا صوبہ تھا۔جو افغانستان میں واقع ہے۔اور اس کا سرغنہ ملائے لنگ (ملا عبداللہ ) تھا۔اور اس بغاوت کا عام سبب ملک میں قانون کے ذریعہ سے حکومت کئے جانے کی ابتداء تھی۔اس مطلب کے لئے جو نظام نامہ بنایا گیا تھا۔اس میں چند دفعات ایسے تھے جن کی نسبت ملاؤں کا دعوی تھا۔کہ وہ شریعت اسلامیہ کے خلاف ہیں۔اور ساتھ ہی ان کے بعض مواد ان ملاؤں کے اقتدار پر بھی حرف زن تھے اس لئے انہوں نے نظام نامہ مذکور کو اپنے مفاد اور مذہبی اعتقادات کے خلاف پاتے ہوئے ملک میں آتش فساد برپا کر دی تھی۔اور یہ آگ مذہب کے نام پر لمحہ بہ لحہ ترقی کرتی جاتی تھی۔اور بجا طور پر خوف لاحق ہو چکا تھا۔کہ کہیں حکومت سقوط نہ کر جاوے۔لہذا اس پیش آمدہ خطرہ سے بچنے کے لئے غازی امان اللہ خان نے ملک بھر کے موثر اور مقتدر اشخاص کو عین بغاوت کے شباب میں پایہ تخت میں طلب کیا اور ان کے سامنے نظام نامہ رکھ دیا گیا۔کہ وہ حسب دل خواہ اس میں ترمیم و تنسیخ کرلیں۔اور سب یک دل ہو کر بغاوت کے فروکر نے میں منہمک ہو