شہدآء الحق — Page 95
۹۵ احمدی مبلغ کو کابل میں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔اور اگر وہ قادیانی نہیں ہے تو ہمارے شک کا ازالہ اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنے باپ دادا کی طرح وہ بھی احمد یوں کو قتل کر دے۔گرفتاری مبلغ احمدیت : چونکہ امیر امان اللہ خان بقول عزیز ہندی صفت تہور سے بے نصیب تھا ( زوال غازی صفحہ ۳۲۵) اور اس کو یہ بھی فکر لاحق تھا۔کہ کسی طرح منگل کی بغاوت فرو ہو جاوے۔( زوالِ غازی صفحه ۱۴۳-۱۴۴) تو اس نے اس شرط کو تسلیم کر لیا اور ر ڈ کرنے کی جرات نہ کر سکا۔رعیت کے ایک حصہ کو خوش کرنے کی غرض سے دوسرے حصہ کو ناراض کر دیا۔یعنی ان پر بلا وجہ ظلم روارکھا۔یہ بات تو ہم پہلے لکھ آئے ہیں۔کہ اقوامِ منگل کے باغی احمدیان خوست سے صرف اسی وجہ سے ناراض تھے۔کہ وہ بادشاہ وقت کے خلاف بغاوت میں شریک نہ ہوئے۔اور یہ بات امیر امان اللہ خان نے اپنی قلم سے لکھے ہوئے خط میں تسلیم کی ہے۔جو اس نے اٹلی سے اخبار زمیندار لاہور میں شائع کرایا تھا کہ اقوام منگل نے مجھے کا فر اور قادیانی کہا تھا۔پس اس کمزور طبع اور بے تہور بادشاہ نے بے گناہ احمدی مبلغ کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔صرف اس واسطے کہ منگل خوش ہوں۔اور مجھ سے ناراض نہ رہیں۔میرا تخت و تاج سلامت رہے اور میں احمدی نہ کہلاؤں۔فرمانِ نبوی: سید نا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔کہ کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیت یعنی تم میں سے ہر ایک