شہدآء الحق

by Other Authors

Page 75 of 173

شہدآء الحق — Page 75

۷۵ محمد نادرشاہ مولوی نجف علی برادر ڈاکٹر عبدالغنی نے فارسی نظم میں ایک کتاب بنام درہ نادرہ لکھی۔اور اس میں ملا ہائے کابل کی مذمت لکھی۔اعلیٰ حضرت محمد نادر شاہ نے وہ کتاب عدالت عدلیہ کے افسر اعلیٰ کو بھیج دی۔کہ وہ اپنی رائے ظاہر کریں۔جنگ افغانستان ۱۹۱۹ ء میں حاجی عبدالرازق آزاد قبائل وزیرستان میں تھا۔اس کے بعد کا بل واپس آیا - امیر کا زیر عتاب رہا۔جب فوت ہوا۔تو مولوی فضل ربی نے اس کا جنازہ پڑھا۔اور تعریف کی امیرامان اللہ خان نے فضل ربی کو زیر عتاب کیا ) انہوں نے بعد مطالعہ حکم دیا کہ یہ شخص کا فر اور مرتد ہے۔کیونکہ اس نے توہین علمائے دین کا ارتکاب کیا ہے۔اور اس کو سنگ سار کیا جائے۔آخر کارسفیر برطانیہ کی مداخلت سے اس کو اجازت ملی۔کہ وہ کابل سے نکل کر ہندوستان چلا جاوے۔اور ساتھ ہی اس کا بھائی محمد چراغ بھی کابل سے خارج کر دیا گیا۔یہ ان شریر گروہ کا انجام ہوا۔جنہوں نے حضرت شہید کو قتل کرایا تھا۔ان کو خدا کا وعدہ انی مهین من اراد اهانتک کے ماتحت پکڑا گیا۔اب سب فوت ہو چکے ہیں۔ناشر چھٹا پاداش ظلم : امیر حبیب اللہ خان بمعیت سردار نصر اللہ خان وغیرہ سیر و شکار کی غرض سے سمت مشرقی علاقہ جلال آبا د کو گیا۔کونٹر نعمان کے سرسبز علاقہ میں دورہ کر رہا تھا۔جب مقام گلہ گوش پر پہنچا جو ایک قابل نظارہ مقام اور