شہدآء الحق — Page 76
شاہی سیر گاہ و شکارگاہ ہے۔وہاں شاہی کیمپ لگایا گیا۔اور چند دن قیام و آرام چاہا۔ایک دن آدھی رات کے وقت جب بادشاہ اور اس کی ملکہ دونوں ایک خیمہ میں خواب استراحت میں تھے۔موکل خدا وند پیغام اجل لایا۔اور موت کا پستول اس کے دماغ میں رکھ کر چلایا۔اور امیر افغانستان کو ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔فوج موجود - پہرہ ڈبل موجود - بادشاہ ملک مارا جاوے کان سے کان تک خبر نہ ہو۔یہ کیا تھا۔وہی انتقام الہی اور حضرت شہید کے قتل کی پاداش تھا۔جو ظالم اور نادان امیر کو بھگتنا پڑا۔آج تک کوئی یقینی قاتل نہ ملا۔لوگوں نے کئی وجودہ قتل تجویز کئے اور کئی لوگوں لے کو قاتل قرار دیا۔زمینی لوگ زمینی قاتل کی تلاش میں ناکام ہوئے اور کامیاب کیوں کر ہوتے۔جب کہ قاتل فرشتہ تھا۔جو خود غائب ہو گیا۔اور ہونا تھا کیا پنڈت لیکھرام پشاوری کا قاتل آج تک مل سکا جوامیر کا قاتل مل جاتا۔- امیر حبیب اللہ خان جس دن مرا۔اس کے صبح جمعرات کا دن تھا۔اور ۲۰ فروری ۱۹۱۹ء مطابق ۱۸ جمادی الاولی ۱۳۳۷ھ تھا۔جب کہ وہ خدا وند عزیز و ذ والانتقام کے دربار میں قاتلان حضرت شہید کی صف میں بطور مجرم جا کھڑا ہوا۔اور اس کا بستر استراحت بستر مرگ سے بدل دیا گیا۔دیکھو ا مصلحت کے ماتحت کرنل شاہ علی رضا پسر سید شاہ خان نائب سالار غربی کو ۱۳ / اپریل ۱۹۱۹ ء کو قاتل قرار دے کر مارا گیا۔یقین کیا جاتا ہے کہ اس کا قاتل کرنل احمد شاہ خاں پسر سردار محمد آصف خان میر بہبود خیال کیا جاتا ہے۔جو اس وقت خیمہ گاہ امیر مقرر تھا۔اور امیر کے اردگر دوالی قنات میں رہا کرتا تھا۔مگر قاتل تو بوقت واقعہ نہ بوقت فرار گر فتار کیا گیا۔اس کو نہ اس جرم سے بری قرار دیا گیا۔بلکہ امیر امان اللہ خان نے اپنی بہن نکاح میں دے دی۔ان واقعات سے صاف ظاہر ہے۔کہ جو کچھ واقع ہوا والدہ امان اللہ خان کی مصلحت سے ہوا۔