شہدآء الحق — Page 106
( زوال غازی صفحه ۲۳۸) بالفاظ دیگر حضرت نعمت اللہ خان شہید، حضرت مولانا عبد الحلیم شہید اور حضرت قاری نور علی شہید کے قتل ہونے کی تمام تر ذمہ داری امیر امان اللہ خان، سردار علی احمد جان اور ملا عبداللہ ملائے لنگ پر تھی۔اور یہی تینوں ان تین مظلوموں کے قتل کے باعث تھے۔اور صلح منگل کی خوشی میں یہ تین احمدی قربانی کے بکرے بنائے گئے۔تا کہ ان کا صدقہ دے کر حکومت اما نیہ کو سلامت رکھا جاوے۔گرفتاری حضرت مولوی عبد الحلیم و مولوی قاری نورعلی امیر امان اللہ خان نے اقوام منگل کو خوش کرنے کی غرض سے اپنی فطری بزدلی سے کام لیا۔اور حضرت نعمت اللہ خان کی شہادت پر قانع نہ ہوا۔اور چند اور احمدیوں کی تلاش میں ہوا۔آخر قرعہ ء فال حضرت مولانا عبد الحلیم احمدی ساکن چار آسیا ( کابل ) اور قاری نور علی احمدی باشندہ شہر کابل کے نام پڑا۔ہر دو کے ذمہ یہ الزام قائم کئے کہ یہ ان احمدیوں سے کی ملاقات کے واسطے سفارت خانہ برطانیہ میں گئے تھے۔جو سفارت خانہ میں ملازم تھے۔اور یہ کہ وہ خود بھی احمدی ہیں۔بقول مسٹر انگس ہملٹن کسی باشندہ افغانستان کے واسطے لے آپ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کے شاگرد تھے۔اور عالم پارسا متقی اور صوفی آدمی تھے۔ہے قاری نور علی صاحب حضرت خلیفہ عبد الرحمن صاحب کے شاگرد تھے اور بہت مخلص خوش اخلاق با خدا انسان تھے۔سے حضرت مولانا غلام حسن جان رضی اللہ عنہ کے فرزند مولوی عبد اللہ جان صاحب کا بل کے برطانوی سفارت خانہ میں میر منشی تھے۔اور اکثر کابل کے احمدی ان سے ملنے آتے جاتے۔حضرت مولوی عبدالحلیم صاحب، حضرت قاری نور علی صاحب اور مولوی محمد رسول صاحب، ڈاکٹر فضل کریم صاحب احمدی سے سفارت خانہ میں بھی اسی غرض کے لئے آئے۔یہ بھائیوں کی ملاقات جو محض اللہ تھی۔جرم قرار پائی۔