شہدآء الحق

by Other Authors

Page 105 of 173

شہدآء الحق — Page 105

۱۰۵ فصل سوم شہادت حضرت مولانا عبد العلیم و حضرت قاری نور علی سردار علی احمد جان : سردار علی احمد جان لے جو جنگ افغانستان کے اختتام پر اگست ۱۹۱۹ ء میں حکومت افغانستان کی طرف سے بطور نمائندہ راولپنڈی کا نفرنس میں تشریف لائے تھے۔وہ والدہ امیر امان اللہ خان کے بھتیجے اور داماد تھے۔(دیکھوز وال غازی صفحہ ۹) صلح کا نفرنس کے بعد کچھ وجوہ ایسے پیدا ہوئے۔کہ امیر امان اللہ خان نے اس کو کابل میں نظر بند کر دیا۔اور آخر پھوپھی کی سفارش سے آزاد کر دئے گئے اور ۱۹۲۴ء بغاوت منگل کے فرو کرنے کی غرض سے امیر امان اللہ خاں نے ان کو خوست روانہ کیا بغاوت کے فرو کرنے کے بعد فاتح منگل کہلاتے تھے۔( زوال غازی صفحہ ۱۰) اس نے حکومت افغانستان کی طرف سے بغاوت منگل فرو کرنے کی غرض سے ملا عبداللہ عرف ملائے لنگ سے لوئی جرگہ میں جو عہد و پیمان کئے تھے۔ان میں چند احمد یوں کا قتل کیا جانا طے پایا تھا۔امیر امان اللہ خان نے اپنی مہر اور دستخطوں سے قرآن کریم پر اس مضمون کا حلف اٹھا کر بھیجا تھا۔لے سردار علی احمد جان والی خلف سردار خوشدل خان لو ہے نا ئب خلف سردار مهر دل خان قندہاری تھا۔اس کی والدہ امیر دوست محمد خان کی لڑکی تھی۔علی سردار علی احمد جان بارک زائی نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی۔۱۹۰۴ء میں سردار عنایت اللہ خان کے ساتھ اور ۱۹۱۷ء میں امیر حبیب اللہ خان کے ساتھ سیر ہند پر آیا تھا۔