شہدآء الحق — Page 107
سفارت خانہ برطانیہ میں جانا یا ان کے ملازموں سے ملنا حکومت افغانستان کے نزدیک ایک ناقابل معافی جرم ہے۔بلکہ جو شخص عمارت سفارت کے نزدیک گھومتا پایا جاوے۔تو اس کو بھی سزا دی جاتی ہے۔یہ سزا صرف قید ہی نہیں بلکہ یہ ایک ناتحریر شدہ قانون ہو چکا ہے۔لوگ جہاں تک ہو سکے سفیر برطانیہ اور اس کے ساتھیوں سے دور رہیں۔دیکھو کتاب افغانستان صفحه ۲۷۳-۲۷۴) فیصلہ عدالت عدلیہ : حضرت مولانا عبدالحلیم اور حضرت قاری نور علی دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔اور قاضی عبد الرحمن کو ہ دامنی کے پاس پیش کیا گیا۔جہاں سے فتویٰ کفر ور جم دیا گیا۔اور عدالتِ عدلیہ نے برقرار رکھا۔اور رکھنا تھا بھی۔کیونکہ کوئی بے گنا ہی اور بے قصوری کا تو سوال ہی نہ تھا۔انہوں نے خواہ مخواه چند مظلوموں کو مارنا تھا کہ تخت و تاج بچایا جاوے۔ان کے واسطے وہ سزا تجویز کی۔جو از روئے قرآن کریم ہمیشہ کفار کی طرف سے لنر جمنکم اولیمسنکم منا عذاب الیم کی صورت میں مومنین اور انصار رسول وقت کے لئے تجویز ہوتی رہی ہے۔یعنی مومنوں کو فتویٰ دیا جاتا۔کہ ان کوضرور سنگسار کیا جاوے۔یا عذاب شدید میں مبتلا کیا جاوے۔واقعہ شہادت ایک دن مقرر ہوا اور جب وہ دن آیا۔تو علماء اور باشندگان شہر میں سے ایک انبوہ کثیر بصورت جلوس زندان کے سامنے جمع ہوا اور ہر دو مظلوم احمدیوں کو پابہ جولاں نکال کر شیر پور چھاؤنی کی طرف لے جایا گیا۔اور ایک میدان میں گڑھا کھودا گیا۔تا کہ ان کو آدھا گاڑکر ان پر بارانِ