شہدآء الحق

by Other Authors

Page 69 of 173

شہدآء الحق — Page 69

۶۹ ظلم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بدقسمت سرزمین تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔“ ( تذکرۃ الشہا دتین صفحه ۷۲ ) ہماری نظم میں قتل امیر کا ذکر : ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ پیشگوئیاں آپ کی تحریرات اور الہامات سے اخذ کر کے اردو نظم میں منظوم کر کے امیر حبیب اللہ خان کے قتل سے کچھ عرصہ پیشتر اخبار الفضل جلد ۶ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۹ نومبر ۱۹۱۸ء میں شائع کی تھیں۔جن میں کابل کے بارہ میں انتخاب درج ذیل ہے : گوش دل سے تم سنو اے ساکنانِ ہر دیار ہم سناتے ہیں تمہیں وحتی خدائے کردگار ہم سناتے ہیں تمہیں کچھ اور پیشن گوئیاں وحی حق ہے خواہ کرو تم یا نہ ان پر اعتبار یہ نشان ہیں مختلف لیکن نتیجہ ایک ہے یعنی ان پر ہے ہمارے صدق دعوئی کا مدار لوسنو تم غور سے اب ساری آیات مبیں پورا ہونے کا کرو پھر شوق سے تم انتظار بس نہیں ہوگا یہاں پر بلکہ ظاہر ہوتے ہیں اور بھی صدہا نشان منجانب پروردگار شہر کابل میں ہمارے مولوی عبداللطیف احمدی ہونے کے باعث ہو چکے ہیں سنگسار خاندان مظلوم کا پابند جولان گراں ! ! خوست سے خارج ہوا املاک سے بے اختیار شاہ نے شاہی کے نشے میں کیا ظلم عظیم جس کے باعث آتے ہیں اب اس یہ دن تاریک تار آہ جو مظلوم پر ہونا تھا وہ تو ہو چکا !! لیکن اب باقی ہے ظالم اس پر بھی پڑنی ہے مار شاہ اور اس کے اراکین جو شریک ظلم تھے اس کے خمیازہ میں اب ہونا انہوں نے ہے شکار