شہدآء الحق — Page 62
۶۲ ہوئے۔حضرت سید عبداللطیف شہید کی اولاد نرینہ اس وقت حضرت صاحبزادہ محمد سعید جان اور صاحبزادہ عبد السلام جان صاحب ، صاحبزادہ محمد عمر جان صاحب، صاحبزادہ احمد ابوالحسن صاحب اور صاحبزادہ محمد طیب جان صاحب تھے یہ سب گرفتار ہو کر شیر پور کے جیل خانہ میں مقید کر دئے گئے۔اور ان کے پاؤں میں موٹی بیڑیاں ڈالی گئیں۔اور آٹھ نو ماہ تک جیل خانہ کی سخت تکالیف میں مبتلا رہے۔اس جیل میں حضرت صاحبزادہ محمد سعید جان اور صاحبزادہ محمد عمر جان جیل فیور یا تپ زندان میں گرفتار ہوئے اور ایک سال کی تکلیف کے بعد ۱۹۱۸ء میں ہر دو فوت ہو گئے۔حضرت صاحبزادہ محمد سعید جان کا ایک نرینہ فرزند باقی ہے۔جن کا نام صاحبزادہ محمد ہاشم جان اہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔کچھ عرصہ کے بعد جب امیر حبیب اللہ خان کا بل سے جلال آباد ایام گر ما بسر کرنے کے لئے چلے گئے۔اور ان دنوں سردار امان اللہ خان نے جو بعد میں امیر امان اللہ خان بادشاہ کا بل ہوئے۔شہر کا بل میں عین الدولہ کے عہدہ پر ممتاز تھے۔ان مظلوموں کی تحقیقات کی تو فضل کریم کے سامنے حضرت شہید مرحوم کا بڑا لڑکا صاحبزادہ محمد سعید جان پیش کیا گیا۔جس کو اس نے شناخت نہ کیا۔کیونکہ اس کا بیان تھا۔کہ وہ بڑے لڑکے کو جانتا تھا۔مگر دراصل اس نے پشاور میں بڑے لڑکے کو نہیں بلکہ تیسرے فرزند صاحبزادہ محمد عمر جان کو دیکھا تھا اور وہ بڑا نہ تھا۔جو پولیس پیش کرتی اس طرح اس کے بیان میں غلطی ا محترم صاحبزادہ محمد ہاشم جان عسا کر پاکستان میں میجر اور ڈاکٹر ہیں۔