شہدآء الحق — Page 63
۶۳ پائی گئی اور پولیس نے کو توالی میں بڑے لڑکے کی روزانہ حاضری کی تصدیق کی۔نیز سردار موصوف نے ان کو بے گناہ پا کر سب کو جیل خانہ سے رخصت کر کے آزاد کر دیا۔فضل کریم کو تو ہندوستان کی سرحد پر پہنچا کر چھوڑ دیا اور خاندان حضرت شہید اور دوسرے احمدیوں کو بھی چھوڑ دیا۔ان ایام میں برائے رہائی ان مظلوموں کا بڑا روپیہ خرچ ہوا۔حضرت صاحبزادہ محمد سعید جان اور عزیز صاحبزادہ محمد عمر جان دونوں نوجوان احمدیوں کی موت بھی شہادت کی موت واقع ہوئی۔اور ان کے خونِ ناحق کا بار گناہ خاندان امیر عبدالرحمن خان کے نامہ اعمال میں جمع ہوا۔اس کے لئے خدا وند تعالیٰ کے حضور جواب دہ ٹھہرے۔فصل ششم میرزا شیر احمد خان مصنف مجم السعادت کی غلط بیانیوں کا جواب میرزا شیر احمد خان باشنده جلال آباد جس نے نجم السعادت نامی کتاب امراء کابل کی مدح خوانی میں منظوم کی ہے۔وہ اپنے آپ کو ملا نجم الدین صاحب ہڑہ کا مرید ظاہر کرتا ہے۔اور اس کتاب کے صفحات ۴۷ - ۴۸ پر حضرت سید عبداللطیف شہید کے شہادت کے واقعہ کو بھی اپنے رنگ میں لکھا ہے۔اور چونکہ وہ ایک مخالف فریق کا ممبر ہے۔اس واسطے اس نے اسی رنگ