شہدآء الحق

by Other Authors

Page 127 of 173

شہدآء الحق — Page 127

۱۲۷ واسطے بھرتی ہوئی تھی اور عرصہ تک خوست میں رہی اور جب خوست سے واپس آئی۔تو کابل میں ارک شاہی میں متعین ہوئی۔اور ان کو رخصت نہ ملتی تھی۔کہ فوجی گھروں سے ہو آیا کریں۔اس واسطے بعض فوجی پوشیدہ طور پر گھر چلے جاتے۔اور ہو آتے۔حبیب اللہ بھی بلا اجازت ایک دفعہ گھر چلا گیا۔اس بات کا علم اس کے افسروں کو ہو گیا۔تو انہوں نے اس کو بلا اجازت جانے کے سبب فوج سے موقوف کر دیا۔اور اس کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔جب سپاہی گرفتار کرنے خواجہ سرائے گئے۔تو حبیب اللہ پاس کے پہاڑوں میں روپوش ہو گیا۔دن کو غاروں میں وقت گزارتا۔رات کو رہزنی شروع کر دی۔اور اس طرح حبیب اللہ کپتان فوج کی بجائے رہزن بن گیا۔اور رفتہ رفتہ دوسرے فراری بھی اس کے ساتھ مل گئے۔اور ایک جتھہ ہو گیا۔اور کوہ دامن کے اردگر ددیہات میں ڈاکے ڈالتا۔اسی طرح چاری کارنامی قصبہ میں سے جو خواجہ سرائے سے دس پندرہ میل اور شمال کو واقع ہے۔ایک شخص سید حسین نامی فراری ہوا۔اور اس نے اپنے قصبہ کے سامنے پہاڑوں میں پناہ لی۔اور اس نے بھی ایک جتھہ تیار کیا۔اور وہ بھی ڈاکے ڈالا کرتا۔آخر کار حبیب اللہ اور سید حسین ستمبر ۱۹۲۸ء میں باہم مل کر کابل پر ڈاکے ڈالنے کی تجویز کرنے لگے۔اور باغ بالا تک بڑھنے لگے۔کابل کی افواج وقتاً فوقتاً حبیب اللہ کے جتھے کا پیچھا کیا کرتی۔مگر چنداں کامیابی نہ ہوئی۔