شہدآء الحق — Page 122
۱۲۲ کشمکش شروع ہوئی۔اور ہر شخص اپنے استحقاق پر غور کر رہا تھا۔اور امیدوار تھا کہ وہ منتخب ہو گا۔امیر امان اللہ خان نے سب کی خدمات جلیلہ کو نظر انداز کر کے ایک ایسے شخص سردار شیر احمد خان کو چن لیا۔جو کسی صورت میں بھی اس عہدہ کے واسطے اہل اور مستحق نہ تھا۔یہ شخص اس وقت صدر یا رئیس مجلس شوری ملی تھا۔وزراء اس بات پر اپنے بادشاہ سے اور بادشاہ کو اپنے وزراء سے اختلاف شدید پیدا ہوا۔اور دل ہی دل میں با ہم کشمکش شروع ہوگئی۔( زوال غازی صفحہ ۴۷ تا ۵۴) جس وقت بادشاہ وطن میں داخل ہوا۔تو ممالک سمت مشرقی ( جلال آباد ) اور سمت جنوبی ( خوست ) میں اس کے عقائد اور چال چلن کے بارہ میں مختلف افواہیں پھیل رہی تھیں۔اور رعیت کے دماغی توازن کو خراب کر رہی تھیں۔امیر امان اللہ خان نے صوبہ جات افغانستان میں اعلان جاری کرایا۔کہ وہ اپنے نمائندے جشن استقلال افغانستان میں بغرض شمولیت روانہ کریں۔بادشاہ نے خزانہ شاہی سے ان کے واسطے سوٹ بوٹ تیار کر رکھے تھے اور کابل آنے پر ان کی ڈاڑھیوں کی قطع و برید شروع کردی - ( زوال غازی صفحه ۴۶ - ۵۵-۵۹) نمائندگانِ ممالک کے آنے پر جو جو وزراء ان کے مہمان داری پر مقرر ہوئے تھے۔انہوں نے بادشاہ سے نفرت کے سبب اعلیٰ حضرت امیر کے عقائد و اخلاق و چال چلن اور مغربی اصلاحات کے خلاف -۲ -٣ ۴