شہدآء الحق

by Other Authors

Page 121 of 173

شہدآء الحق — Page 121

۱۲۱ از بک کو اپنا نائب السلطنت مقر ر کیا۔اور خود سارا انتظام مکمل کر کے دس دسمبر ۱۹۲۷ء کو براہ قندھار، چمن ، کوئٹہ، دہلی اور بمبئی یورپ روانہ ہوا۔ہندوستان میں اس کا نہایت شان و شوکت سے استقبال ہوا۔ہندوستان سے نکل کر ایک مسلمان بادشاہ ہو کر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کا خیال تک دل میں نہ لایا۔اور بحر قلزم میں سے جدہ کے پاس سے گذر کر مسولینی کی دعوت پر سیدھا اطالیہ جا پہنچا۔وہاں سے فرانس گیا۔فرانس سے لندن۔لندن سے جرمنی۔جرمنی سے روس اور روس سے براہ بلقان و مملکت ترکیه، ایران آیا اور ایران سے براہ مشہد و ہرات افغانستان میں جون ۱۹۲۸ء کو داخل ہوا۔ہر ایک ملک نے اپنی قوت اور طاقت کی حیثیت سے پورا پورا استقبال کیا۔اور حق مہمان نوازی ادا کیا۔اور اس کی وہ عزت کی جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔اور عروج و اقبال کے بلند مقام پر جا کھڑا کر دیا۔اس سیاحت پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہوئے ایران سے بعد فراغت براہ مشہد ہرات جب کابل پہنچا۔تو آتے ہی پغمان میں لوئی جرگہ ( اجتماع عظیم ) بلوائے۔اور ۱۹ / اگست ۱۹۲۸ء کو جشن استقلال افغانستان منانے کے احکام جاری کر دیئے۔اور سیر و سیاحت یورپ سے جو آزادانہ خیالات دل میں اٹھے تھے۔اور جن اصلاحات کا اس نے کمال پاشا سے بدوران ملاقات تذکرہ کیا تھا (زوال غازی صفحہ ۳۳ تا ۳۹ ) ان کو عملی ترویج اور رنگ دینے کے واسطے اس نے اقدام شروع کیا اور وہ اس طرح ہوا۔سب سے پہلے اس نے وزیر اعظم یا صدر اعظم کے عہدہ کو منظور کیا۔اور کسی مناسب شخص کے انتخاب کا فکر ہوا۔وزراء السلطنت میں با ہم