شہدآء الحق

by Other Authors

Page 96 of 173

شہدآء الحق — Page 96

۹۶ راعی یا چوپان یا بادشاہ ہے۔اور اس سے اس کی رعیت کے حقوق اور حفاظت کا سوال ہو گا۔جب قرآن کریم نے صاف فرمایا ہے : کہ لا اکراہ فی الدین اور لـكـم ديـنـكــم ولی دین یعنی ہر شخص کو مذہبی آزادی کا حق ہے۔اور کوئی شخص دوسرے مذہب میں جبر وا کراہ سے دخل نہ دے۔اور نہ صرف اختلاف مذہب پر قتل کرے۔اور خود اس نے ملک میں مذہبی آزادی کا اعلان کیا تھا۔تو اس نے کیوں خدا تعالیٰ کے صریح احکام کے خلاف اور اپنے اعلان وفرمان کے خلاف ایک معصوم اور مظلوم احمدی مبلغ کو اپنے تخت و تاج کی سلامتی کے واسطے قربانی کا بکرا بنایا !!!؟ امیر کابل کی بے وفائی : نہایت افسوس ہے۔کہ احمدیان سمت جنوبی نے اپنے بادشاہ کی اطاعت اور وفاداری کے ثبوت میں نقصانِ مال و جان قبول کیا۔مگر باغیوں کا ساتھ نہ دیا۔اور امیر امان اللہ خان بادشاہ نے اس وفادار حصہ رعیت کے حقوق اور مال و جان کی حفاظت نہ کی۔اور ان کے نقصانات کی تلافی نہ کی۔بلکہ الٹا ان ہی باغیوں کے کہنے سے اپنے وفا داروں سے بے وفائی کی۔اور نہ خدا اور اس کے رسول کی شریعت کا پاس کیا۔اور نہ اپنے اعلان کا پابند رہا۔اور هل جزاء الاحسان الا الاحسان کی آیت کو بھول گیا۔اور وفاداری کا معاوضہ وفا داری تھا نہ کہ بے وفائی۔آه ! افسوس کہ امیر حبیب اللہ خان کا فرزند اور امیر عبدالرحمن کا پوتا اپنے ظلم و زیادتی میں اپنے باپ اور دادا سے کم نہ نکلا اور آخر کا ر حضرت نعمت اللہ خان کو گرفتار کر لیا گیا۔اور ایک فرضی مقدمہ ان پر چلایا۔کہ جماعت احمدیہ