شہدآء الحق — Page 97
۹۷ کے عقائد خلاف اسلام ہیں۔اور قاضی عبدالرحمن کو ہ دامنی اور قاضی عبدالسمیع قندھاری نے فتویٰ کفر دے دیا۔اور صرف اسی پر صبر نہ کیا بلکہ رجم کا حکم بھی دے دیا۔اور عدالتِ عدلیہ نے بھی اس حکم کو برقرار رکھا۔حضرت نعمت اللہ خان نے بھی عدالت عدلیہ میں خوب مفصل بحث کی۔اور علماء کے فتاویٰ تکفیر غلط ثابت کر دیئے۔مگر علمائے کا بل تو امیر امان اللہ خان کے حکم کے تابع تھے۔ان کو اصلیت اور حقیقت سے کیا کام تھا۔ان دنوں میں جب کہ حضرت نعمت اللہ خان زندان میں اسیر تھا۔اس کے دو تین خطوط مشتمل بر حالات خود آئے۔اور آخری چار صفحہ کا خط جیل سے آیا۔جو پنسل سے لکھا ہوا تھا۔اور اس کے بعد یومِ شہادت سے دو چار یوم قبل کا لکھا ہوا تھا۔کہ دو تین دن میں آخری پیشی ہو گی۔اور یہ آخری خط ہے۔جو دھیمی روشنی میں لکھ رہا ہوں۔اگر چہ عدالت عدلیہ پر اتمام حجت کر دی گئی تھی۔مگر وہاں تو ” پیش گرگان گر یہ میشی چہ شوڈ پر عمل ہو رہا تھا۔کیونکہ وہ بحکم فدیناہ بذبح عظیم یعنی ہم نے اس کے عوض میں بڑی قربانی دی۔حضرت نعمت اللہ خاں کے قتل کے عوض میں تخت و تاج کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔تین بکروں کے ذبح ہونے کی خبر : خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے ایام حیات میں ہی اطلاع دی تھی۔کہ شاتان تذبحان کے بعد جو پوری ہو چکی تھی۔یکم جنوری ۱۹۰۲ء کو خبر دی۔کہ تین بکرے ذبح کئے جائیں گے۔(البشری جلد دوم صفحه ۱۰۵) اگر چه حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بظاہر تین بکرے منگوا کر ذبیح بھی کروائے۔تاہم جو خدا تعالیٰ