شہدآء الحق — Page 81
ΔΙ اللہ خان کی نعش جلال آبا د لا کر سپر د خاک کر دی۔اور ولی عہد کی موجودگی میں خود میر افغانستان بن بیٹھا فوج اور اراکین موجودہ سے بیعت لی۔اور اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔اور انگریزی گورنمنٹ ہند کو اطلاع دے دی۔اور ان سے توثیق کا خواہاں ہوا۔اس وقت مستوفی الممالک سردار محمد حسین خان بھی ساتھ تھا۔سردار امان اللہ خان نے جو امیر حبیب اللہ خان کا فرزند ثالث تھا اور اس وقت کا بل میں گورنر تھا۔جب دیکھا کہ میرا باپ کس مپرسی کی حالت میں مارا گیا۔اور جائز ولی عہد سلطنت با وجود موقع پر موجود ہونے کے محروم السلطنت کر دیا گیا۔اور اس کا حق سردار نصر اللہ خان نے غصب کر لیا۔اور قاتلوں کی گرفتاری کا کوئی تردد نہ کیا گیا۔تو اس نے فوراً سردار عبدالقدوس خان اے شاہ عاصی کے مشورہ سے اراکین سلطنت ورؤسائے ملک و علماء شہر کو بلوایا۔اور ایک اجتماع قائم کیا۔اور سب واقعات با چشم تر بیان کئے۔کہ ملک کا بادشاہ اور ہمارا باپ کس مپرسی میں قتل ہو گیا اور کوئی قاتل گرفتار نہ کیا گیا اور جائز ولی عہد محروم کر دیا گیا۔کیا اس سے صاف واضح نہیں۔کہ قاتل خودسردار نصر اللہ خاں ہے۔کیا یہ جو کچھ ہوا۔درست ہوا۔سب نے کہا نہیں۔تو سردار امان اللہ خان نے کہا۔کہ آپ لوگ میرا ساتھ دیں ہم مظلوم ہیں۔اور قصاص لینے میں اعانت کریں۔سب نے سردار امان اللہ خان کے ہاتھ پر اتفاق کیا اور بیعت کی۔اور اس کو بادشاہ تسلیم کر لیا۔اب ملک میں دو بادشاہ ہو گئے۔امیر امان اللہ خان نے فوراً ان اراکین سلطنت کی۔اولاد اور گھروں اور ا سردار عبدالقدوس خان شاہ خاصی صدراعظم مقرر ہوئے۔