شہدآء الحق — Page 80
۸۰ سنسان گوشوں میں بے روک و خطر آدمی کو محظوظ کر رہا تھا۔ایک پیالہ چائے کے نوش فرمانے سے جب وہ تازہ دم ہوا۔تو وہ اس ندی کے کنارے آ رہا۔اور چند مچھلیاں پکڑ لیں۔اسی رات جب کہ وہ مچھلی کے شکار سے لطف اندوز ہو کر رات بستر استراحت پر سورہا تھا۔اور اس کے ہاتھ سے اس کے اختیارات سلب ہو گئے تو موت کا غیبی ہاتھ نا معلوم طریقہ سے داخل خیام ہوا۔اور ایک گولی اس کے دماغ میں داغ دی۔اور خیمہ سے اس کی جان لے کر ایسا نا معلوم نکلا جیسا کہ وہ داخل ہوا تھا۔شور وغوغا بلند ہوا۔محافظ آگے پیچھے بھاگے۔افسر موقعہ کی طرف دوڑے آئے۔شہزادے بیدار ہوئے اور ہر طرف تلاش کی گئی۔مگر فرشتہ اجل رخصت ہو چکا تھا۔اور اپنے عقب میں سوائے نعش کے اور کچھ نشان نہ چھوڑا۔جو وقار اور آرام سے بے جان ہو کر استراحت فرما تھی۔(صفحہ ۹۷ تا۹۹) ساتواں پاداش ظلم : سردار عنایت اللہ خان معین السلطنت جو امیر حبیب اللہ خان کا بڑا فرزند اور مقرر شدہ ولی عہد تھا۔اور مستحق تاج و تخت تھا۔سردار نصر اللہ خان جو اس کا چا اور خسر تھا۔دیرینه حرص و آز امارت افغانستان چمک اٹھا۔اور اس نے اپنے کمزور طبع بھتیجے کا جائز حق غصب کر لیا۔اور امیر حبیب