شہدآء الحق

by Other Authors

Page 49 of 173

شہدآء الحق — Page 49

۴۹ احمدیت کی مخالفت کی اور جلتی آگ پر تیل ڈالا۔اس واقعہ کے بارہ میں مرزا شیر احمد خان مولف نجم السعادت لکھتا ہے روایتی ز کتب یافته پس از تحقیق که اوست کافر و در کفر رتبه اس زندیق نوشته مسئلہ بے اختلاف را با هم زدند مهر ببردند پیش شاہ امم چوں آں مخرب ملت ز تو به عاری بود دراں نوشته باد حکم سنگساری بودا یعنی مولویوں کو بڑی تحقیق کے بعد کتابوں میں ایک روایت مل گئی کہ ایسا شخص کا فروزندیق ہے۔اور چونکہ یہ قوم کا تباہ کنندہ تو بہ کرنے والا نہ تھا۔اس واسطے اس نوشتہ کی رُو سے اس کے واسطے سنگ سار کرنے کا حکم موجود تھا۔جیسا کہ معلوم ہے سر زمین افغانستان میں ہمیشہ علماء کے سامنے امرائے کا بل بے دست و پا ہوتے تھے۔خود امیر عبدالرحمن اپنی سوانح حیات میں لکھتا ہے کہ جب میں نے حکومت کا بل کو اپنے ہاتھ میں لیا۔تو طرف داران امیر ایوب خان نے علماء سے فتویٰ حاصل کیا۔کہ امیر عبد الرحمن خان کا فر ہے۔اور اس کے ایک فوجی کا قتل دس گوروں کے قتل کا ثواب رکھتا ہے۔امیر حبیب اللہ خان جب ۱۹۰۷ ء میں سیر ہند کے لئے آیا۔تو اس کی واپسی پر سمت مشرقی کے علما نے فتویٰ دے دیا تھا۔کہ امیر کابل کافر اور عیسائی اور مرتد ہو چکا ہے۔اور امیر امان اللہ خان کو بھی سیر یورپ کے بعد کافر اور عیسائی اور مرتد قرار دے دیا۔اور یہی امر اس کے خروج از کابل کا سبب ہوا۔امیر حبیب اللہ خان تازہ تخت کا بل پر متمکن ہوا تھا۔گھر میں بھی