شہدآء الحق

by Other Authors

Page 48 of 173

شہدآء الحق — Page 48

الغرض حضرت شہید کو ایک جلوس کی صورت میں مسجد بازار کتب فروشی سے روانہ کیا اور پا پیادہ چوک پل خشتی سے ہو کر اور بازار ارک شاہی میں سے گذر کر دروازہ نقار خانہ پر جا پہنچے۔جو ارک شاہی کے ساتھ ہے، اور شاہی قلعہ میں داخل ہو کر امیر حبیب اللہ خان کے حضور پیش ہوئے علماء اور عوام کا جم غفیر بھی ساتھ تھا۔اور سردار نصر اللہ خان بھی خود اس وقت موجود تھا سردار نصر اللہ خان نے دریافت کیا کہ کیا فیصلہ ہوا۔علماء اور عوام الناس نے شور مچایا کہ صاحبزادہ ملامت شد بادشاہ نے بار بار حضرت شہید سے کہا کہ مولویوں کا فتویٰ تو کافر ہونے کا ہے اور رحم کرنے کا ہے اگر آپ کوئی صورت تو بہ کی پیدا کر لیں۔تو اس فتویٰ اور گرفت سے نجات ہو سکے گی۔سردار نصر اللہ خان نے اپنے قلبی بغض اور عناد کے سبب سے علماء کا نوشتہ فتولی کفر ور جسم لے کر پڑھ سنایا اور خود ہی پبلک کو مخاطب ہو کر کہنے لگا۔کہ آپ اطمینان رکھیں۔امیر صاحب آپ کی مرضی کے خلاف نہ کریں گے اور ضرور علماء کے فتوے پر عمل کریں گے۔وہ اپنے عمل اسلام میں آپ سے کم نہیں ہیں۔اور آپ کے فتوے کی تصدیق اور تائید کریں گے مگر وہ چاہتے ہیں کہ بطور اتمام حجت صاحبزادہ عبداللطیف کو کسی قدر مہلت دے کر تو بہ کا موقعہ دیں۔اس موقعہ پر ڈاکٹر عبدالغنی اور اس کے بھائیوں ا نے دل کھول کر ے مولوی نجف علی۔ڈاکٹر عبدالغنی اور مولوی چراغ یہ تینوں بھائی اہلحدیث تھے۔اور جلال پور جٹاں ضلع گجرات کے باشندے تھے۔امیر حبیب اللہ خان کی حکومت میں کابل میں مختلف عہدوں پر مقرر تھے۔امیر امان اللہ خان کے زمانہ میں بھی کابل میں رہے۔لاہور کے منشی الہی بخش مولف اعصائے موسی کے مرید تھے۔۔۔اور حضرت احمد کے دشمنوں میں سے تھے۔ایک دفعہ حضرت احمد کو مولوی نجف علی کے زمانہ طالب علمی میں بوقت ملاقات الہام ہوا۔دس از مائی اینمی۔۔۔سو انہوں نے اپنی دشمنی کا خوب ثبوت دیا۔