شہدآء الحق

by Other Authors

Page 50 of 173

شہدآء الحق — Page 50

۵۰ مخالفت موجود تھی۔اور خود سردار نصر اللہ خان بھی اپنے امیر ہونے کی فکر میں تھا۔اور امیر حبیب اللہ خان کو کسی نہ کسی طرح زک دینا چاہتا تھا۔امیر موصوف ایک کمزور طبع انسان تھے۔اور اس میں قوتِ مقابلہ کمزور تھی۔اس وقت سردار نصر اللہ خاں جو نائب السلطنت تھا۔مولویوں کا طرف دار تھا۔اور حضرت عبداللطیف اسے بھی دیرینہ نفار تھا۔امیر کا بل نے اس وقت علماء اور پبلک کو رخصت کر دیا۔اور حضرت عبد اللطیف کو تو قیف خانہ میں بھیج دیا۔جو ارک میں ہی تھا بعدہ بار بار طلب کیا اور کہا کہ صاحبزادہ صاحب آپ کسی طرح اس موقع کو ٹال دیں۔اور اپنی جان اور عیال پر رحم کریں۔مگر حضرت عبداللطیف نے بار بار یہی جواب دیا۔کہ ایک بات جو صحیح اور حق ہے۔کس طرح ان مولویوں کے کہنے اور موت کے ڈر سے چھوڑ دوں اور اپنی عاقبت کو خراب کر دوں۔اور خدا تعالیٰ کو ناراض کروں میں نے تیرہ سو سال کے بعد اس شخص کو پایا۔اور قرآن وحدیث کی تائید اور تصدیق سے قبول کیا۔میں اس کو صادق اور راستباز مان چکا ہوں۔اور اب اس کی تکذیب کروں یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا اور نہ میری ضمیر اجازت دیتی ہے۔اگر چرا میر صاحب نے بار بار کہا۔مگر وہ کوہ وقار اولوالعزم انسان ایک انچ اپنے مقام صداقت سے پیچھے نہ ے سید احمد ابوالحسن خلف حضرت شہید مرحوم فرماتے ہیں کہ آپ کو ارک کے قید خانہ میں بھیج دیا گیا۔اور آپ کو کیلے کمرہ میں رکھ کر آپ پر باہر سے سارے دروازے بند کر دیئے گئے۔اور کسی کو آپ سے ملنے کی اجازت نہ تھی۔جو سپا ہی آپ پر متعین کئے گئے تھے۔ان کا بیان تھا کہ ہمیں دن رات آپ کے قرآن شریف کی تلاوت کی آواز آتی رہتی تھی۔اور ہم حیران تھے۔کہ باوجود ان روکوں اور تکالیف کے حاجات بشری کو کس طرح پورا کرتے ہیں۔اور کس چیز پر زندگی بسر کرتے ہیں۔وہ تمام سپاہی آپ کی زندگی اور تعلق باللہ کے قائل ہیں اور ان کے دلوں پر آپ کی محبت کا گہرا اثر ہے۔