شہدآء الحق — Page 23
۲۳ ملک پر دست تطاول دراز کرے اور اس وجہ سے حملہ آور ہو کہ اس کو مذہبی جنگ قرار دے۔اور مسلمانوں کو شریعت قرآنیہ کی اتباع اور تبلیغ سے روکے اور ارتداد پر مجبور کرے۔تو بغرض حفظ جان و املاک و حکومت و مذهب بیشک مسلمان جہاد بالسیف کر سکتے ہیں۔اور کون بے وقوف ہو گا جو ظالم حملہ آور کے مقابلہ میں مظلوم مسلمانوں کا حق دفاع تسلیم نہ کرے گا اور ان کے قتل و غارت اور عزت و آبرو اور ملک و مذہب کے ضائع ہو جانے کا مشورہ دے گا اور اس پر رضا مند ہوگا : - حضرت احمد صاحب نے جس قسم جہاد کو حرام اور ممنوع قرار دیا ہے وہ غلط مفہوم جہاد ہے کہ جس میں صرف اختلاف مذہب کے سبب سے غیر مسلم کا قتل اور غارت جائز قرار دیا جاتا ہے۔جیسا کہ ۱۸۹۲ء کے بعد ۱۹۰۲ ء تک سرحد پر ملا لوگوں نے جائز کر رکھا تھا کہ جہاں کسی انگریز مرد یا عورت کے خلاف موقع ملا۔تو اس کو بے گناہ قتل کر دیا۔یہ سب ان بعض متشد دلا يعقل مسجد نشین ملاؤں کے خیالات ہیں۔قرآن کریم نے اس قسم کے کسی جہاد کی تعلیم نہیں دی۔اس کے ذمہ دار یہی بے عقل لوگ ہیں۔اور وہ امام مہدی معہود کو بھی اسی قسم کے جہاد کا عامل مانتے ہیں اور اسی کے انتظار میں ہیں۔چونکہ حضرت احمد علیہ ا نے ان کے اس لغو فعل کو ر ڈ کیا ، اور اس کو حرام جہاد کہا اس واسطے وہ ناراض ہو گئے۔اور لوگوں میں شہرت دی۔کہ جماعت احمد یہ منکرِ جہاد ہے۔ہم بے شک اس جہاد کے منکر ہیں جس کا ثبوت قرآن کریم میں نہیں ملتا۔اور قرآن کریم کے فرمودہ ہر دوا قسام جہاد کے قائل ہیں۔اور خود جہاد کبیر یا جہاد بالقرآن پر عامل ہیں۔ہم محض اختلاف مذہب اور عقیدہ کی بناہ پر کسی کی