شہدآء الحق — Page 22
۲۲ گناہ کو قتل کرنا اسلام میں جرم عظیم ہے۔ہاں اگر کوئی فرد یا بادشاہ ایسے فعل کا مرتکب ہو۔تو اس کے شخصی فعل کا اسلام ذمہ دار نہیں۔اور نہ بادشاہوں کی ملک گیری کی جنگوں کو مذہبی جہاد سے کوئی تعلق ہے۔اگر کوئی قوم یا بادشاہ اس قسم کی غلطی کا مرتکب ہو۔تو وہ مذہب اسلام کے واسطے باعث ننگ و عار ہے۔جہاد کا غلط مفہوم : بے شک عیسائی پادریوں اور آریوں کی سعی سے ایک طبقه مسلمانانِ ہندا اس باطل عقیدہ میں مبتلا ہو گیا ہے۔کہ آنے والا امام مہدی معہود اور عیسی موعود کفار اسلام سے جہاد بالسیف کرے گا۔اور اس غلط فہمی کی اشاعت میں اہلحدیث کے علماء بالخصوص نواب صدیق الحسن صاحب بھوپالوی کی تالیفات نے بڑی مدد دی ہے اور احناف جو سرحد افغانستان پر بستے ہیں۔اکثر ہندوستان کے مکتبوں دیو بند دہلی وغیرہ سے یہ غلط خیالات لے کر اپنے اوطان کو جاتے ہیں۔اور اس غلط مسئلہ کو شہرت دیتے رہے ہیں۔حضرت احمد مسیح موعود علیہ السلام نے اس غلطی کی بھی اصلاح کی ہے۔اور عمدہ دلائل اور براہین سے کی ہے۔اور فرمایا کہ ہر مسلمان کے واسطے مقدم جہاد بالقرآن اور جہاد بالعلم والقلم ہے۔اور یہیں از روئے قرآن کریم جہاد کبیر ہے۔جو تقریر اور تحریر کے ذریعہ سے ہو۔لیکن اگر کوئی دشمن دینِ اسلام قوم یا فرد مسلمانوں کے جان و مال و ے حضرت سید احمد بریلوی نے ۱۸۳۰ء میں ہندوستان سے آکر سرحد میں سکھ قوم کے خلاف جہاد کا تہیہ کیا کیونکہ سکھ حکومت نے مسلمانوں سے مذہبی آزادی چھین لی تھی۔مگر انگریزوں کے خلاف جہاد بالسیف کو جائز نہ جانا۔کیونکہ انہوں نے مذہبی آزادی برقرار رکھی تھی۔مگر اہل حدیث اور بعض نا واقف اہل سرحد اس خطرناک غلطی کے مرتکب ہوتے رہے اور نتیجہ ہمیشہ مسلمانوں کے حق میں مضر نکلتا رہا۔