شہدآء الحق — Page 138
۱۳۸ کی امیدوں اور توقع کے برخلاف بچہ سقہ چند مسلح موٹروں کے ہمراہ ارک میں داخلہ کی نیت سے سامنے آتا دکھائی دیا۔بیچارے غلام دستگیر خان کے لئے یہ ایک نہایت صعب وقت تھا۔کہ اس کا دل اپنی حکومت کے زوال پر غم والم سے ٹکڑے ٹکڑے ہورہا تھا۔ایسے وقت میں اس کے دشمن فاتح کا دفعہ سامنے سے نمودار ہو جانا اور اس کے رسمی فرائض میں نا قابل برداشت اضافہ کرنے والا تھا۔کہاں وہ ماتمی نوحوں کے کیف سے ہم آغوش تھا۔اور کہاں اسے دفعہ ان نوحوں کو بند کر کے بچہ سقہ کی فتح مندی کا ترانہ گا کر شاہی سلامی اتارنی پڑی۔اس کے دل پر ایسا کرنے سے کیا کچھ گذر گیا ہو گا۔اس کا اندازہ بیان قلم سے مشکل ہے ( زوال غازی صفحہ ۳۵۹) ۱۶ / جنوری ۱۹۲۹ء کو حبیب اللہ بچہ سقہ بادشاہ افغانستان مقرر ہوا۔کا بلیوں کا تلون مزاج : عزیز ہندی لکھتا ہے کہ آہ! یہ بھی عجیب عبرت خیز سماں تھا۔لوگوں کے یہی گروہ ابھی چھ ماہ نہیں گزرے۔کہ افغانستان کو غازی امان اللہ خان کی خدمات کے صلہ میں اس کی نسل کو بخش چکے تھے اور اس عہد کو برقرار رکھنے کے لئے پابند و مسئول بنا چکے تھے اور یہی وہ لوگ تھے جو صرف ایک دو دن قبل معین السلطنت سردار عنایت اللہ خان کو اپنا ہاتھ دے چکے تھے۔اور آہ آج یہ وہی لوگ ہیں جو بچہ سقہ کو اپنا بادشاہ بنا ر ہے ہیں کیا یہ محض طاقت کی کرشمہ نمائی نہیں ہے۔اور کیا طاقت اس سے پیشتر بھی انسانیت کے لئے ذلت اور لعنت آفرین ہو سکتی ہے۔( زوال غازی صفحہ ۳۶۱) کہتے ہیں کہ جب ملک مصر کی حکومت ہارون رشید خلیفہ بغداد کے