شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 108
کرتے۔اب بھی جب یہاں سے گئے ہیں، مجھے لندن مل کے گئے ہیں اور گو حالات کی وجہ سے میں نے ان کو کہا بھی تھا کہ احتیاط کریں، بہر حال اللہ تعالیٰ نے شہادت مقرر کی تھی ، شہید ہوئے۔ان کو یہ بھی فکر تھی کہ جو پرانے بزرگ ہیں ، جو پرانے خدمتگار ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے میں پہل کرنے والے ہیں، ان کی بعض اولا دیں جو ہیں وہ خدمت نہیں کر رہیں۔تو یہ بھی ان کو ایک بڑا درد تھا اور میرے ساتھ درد سے یہ بات کر کے گئے اور بعض معاملات میرے پوچھنے پر بتائے بھی اور ان کے بارے میں بڑی اچھی اور صاف رائے بھی دی۔رائے دینے میں بھی بہت اچھے تھے۔سابق امیر صاحب گوجرانوالہ نے لکھا کہ سولنگی صاحب کہا کرتے تھے کہ خلافت کے مقابلے پہ کوئی دوستی اور رشتے داری کسی قسم کی حیثیت نہیں رکھتی۔1974ء میں سولنگی صاحب کے خاندان کے بعض افراد نے کمزوری دکھائی۔یہ اس وقت بہت کم عمر تھے مگر اپنے خاندان کو اسی حالت میں چھوڑ کر امیر جماعت چوہدری عبدالرحمن صاحب کے گھر چلے گئے جہاں ساری جماعت پناہ گزین تھی اور وہاں ڈیوٹیاں دینی شروع کر دیں۔چوہدری صاحب پر بھی ان کی اس قربانی کا بڑا اثر تھا۔جیسا کہ میں نے کہا مالی قربانی کی بھی بڑی توفیق ملی۔یہ سابق امیر صاحب لکھتے ہیں کہ کھلے دل سے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والے تھے۔ایک دفعہ ایک پلاٹ مل رہا تھا جو بعد میں نہیں ملا۔لیکن اس کی قیمت پچاس لاکھ روپے تھی۔انہوں نے کہا میں ادا کر دوں گا۔بہر حال وہ تو نہیں ملا لیکن اس کے مقابلے پر ایک اور کوٹھی چوالیس لاکھ روپے کی مل گئی، جس کی قیمت انہوں نے ادا کی اور جو جماعت کے گیسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔اس سے پہلے مسجد کے لئے بھی کافی بڑی رقم دے چکے تھے لیکن کبھی یہ نہیں کہا کہ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا ہے میں نے رقم دی ہے۔خلافت جو بلی کے موقع پر لاہور کی طرف سے جو قادیان میں گیسٹ ہاؤس بنا ہے، اس کی تعمیر کے لئے بھی انہوں نے دس لاکھ روپیہ دیا۔خدام الاحمدیہ گیسٹ ہاؤس جور بوہ میں ہے اس کی رینوویشن (Renovation) کے لئے انہوں نے بڑی رقم دی۔غرض کہ مالی قربانیوں میں پیش پیش 108