شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 109
تھے، وقت کی قربانی میں بھی پیش پیش تھے۔اطاعت اور تعاون اور واقفین زندگی اور کارکنان کی عزت بھی بہت زیادہ کیا کرتے تھے۔پیسے کا کوئی زعم نہیں۔جتنا جتنا ان کے پاس دولت آتی گئی میں نے ان کو عاجزی دکھاتے ہوئے دیکھا ہے۔مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب شہید دوسرے شہید ہیں مکرم چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب ابن مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب۔یہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھتیجے تھے۔اور چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب جو سابق امیر ضلع لاہور ہیں ان کے چچازاد بھائی تھے۔ان کو بھی جماعتی خدمات بجالانے کا موقع ملتا رہا۔چار خلفائے احمدیت کے ساتھ کام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ان کے والد مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب سابق امیر ضلع لاہور تھے۔ان کی ابتدائی تعلیم قادیان کی تھی۔میٹرک اور گریجویشن لاہور سے کی۔انہوں نے لائرز ان کا لج لندن سے بارایٹ لاء کیا۔کچھ عرصہ لندن میں پریکٹس کی۔پھر والد صاحب کی بیماری کی وجہ سے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر واپس آگئے اور پھر حضور رحمہ اللہ کے ارشاد پر ہی اسلام آباد میں سیٹ ہو گئے اور 1984ء میں ریٹائر ڈ ہوئے۔پھر انہوں نے کوئی دنیاوی کام نہیں کیا بلکہ جماعتی کام ہی کرتے رہے۔متعدد جماعتی عہدوں پر ان کو خدمت کی توفیق ملی۔سابق امیر جماعت اسلام آباد، نائب امیر ضلع لاہور ہمبر قضاء بورڈ ہمبر فقہ کمیٹی کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 83 سال تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے اور دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔جمعہ کے دن تیار ہو کر کمرے سے نکلے تو کمرے سے نکلتے ہی کہا کہ کمزوری بہت ہوگئی ہے۔پھر ناشتہ کیا اور بیٹے کو کہا کہ میں نے بارہ بجے چلے جانا ہے۔تو بیٹے نے کہا کہ اتنی جلدی جا کر کیا کرنا ہے۔تو جواب دیا کہ میرا دل نہیں چاہتا کہ لوگوں کے اوپر سے پھلانگ کر جاؤں اور پہلی صف میں بیٹھوں۔بیٹا اور پوتا ساتھ تھے۔بیٹے نے ڈیوٹی پر جانے سے پہلے کہا کہ 109