شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 107 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 107

لا ہور سے اسی وقت فوری طور پر وائنڈ آپ کر کے امریکہ چلے گئے۔انہوں نے بہت سے احمدی بے روزگار افراد کی ملازمت کے سلسلہ میں مدد کی۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں ہماری گھر یلو زندگی بھی بڑی مثال تھی۔مثالی باپ تھے، مثالی شوہر تھے۔ہر طرح سے بچوں کا اور بیوی کا خیال رکھنے والے۔دروازے پر کوئی ضرورتمند آ جاتا تو کبھی اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹا یا۔لوگ آپ کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لئے آتے اور بڑا مشورہ اچھا دیا کرتے تھے۔اسی لئے مرکزی صنعتی بورڈ کے ممبر بھی بنائے گئے تھے۔بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھے۔ہر مشکل کام جو بھی ہوتا ان کے سپرد کیا جاتا بڑی خوشی سے لیتے ، بلکہ کہہ دیتے تھے انشاء اللہ ہو جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کو صلاحیت دی ہوئی تھی اس کو بخوبی سرانجام دیتے تھے۔انہیں دوسروں سے کام لینے کا بھی بڑافن آتا تھا۔بہت نرم گفتار تھے، اخلاق بہت اچھے تھے۔مثلاً یہ ضروری نہیں ہے کہ جو اپنے سپر دفرائض ہیں انہی کو صرف انجام دینا ہے۔اگر کبھی سیکرٹری وقف جدید نے کہہ دیا کہ چندہ اکٹھا کرنا ہے میرے ساتھ چلیں۔گو ان کا کام نہیں تھا لیکن ساتھ نکل پڑتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے مسجد بیت الفتوح کی جب تحریک کی ہے تو فوراً فیکس کے ذریعے اپنا وعدہ کیا اور وعدہ فوری طور پر ادا بھی کر دیا۔چوہدری منور علی صاحب سیکرٹری امور عامہ بیان کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ قادیان کے انتظامات میں ان کے پاس ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہوتا تھا اور انتہائی خوبی سے یہ کام کرتے تھے۔بسوں، کاروں اور دیگر ٹرانسپورٹ کا کام انتہائی ذمہ داری سے کرتے تھے اور یہ ہے کہ سارا دن کام بھی کر رہے ہیں اور ہنستے رہتے تھے۔بڑے خوش مزاج تھے۔امریکہ شفٹ ہونے کے باوجود 2009ء کا ( قادیان کا) جو جلسہ ہوا ہے اس میں پاکستان آئے اور اس کام کو بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔قادیان جانے والے جو لوگ تھے ان کی مدد کی۔میرے ساتھ بھی ان کا تعلق کافی پر ا نا خدام الاحمدیہ کے زمانہ سے ہے۔مرکز سے مکمل تعاون اور اطاعت کا نمونہ تھے۔جیسے بھی حالات ہوں جس وقت بلا ؤ فوراً اپنے کام کی پروا نہ کرتے ہوئے حاضر ہو جایا کرتے تھے۔عام طور پر بزنس مین اپنے بزنس کو چھوڑا نہیں 107