شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 53

امۃ القیوم کی رضاعی والدہ تھیں۔شہید مرحوم کے والد مکرم عبدالمالک صاحب کو نمائندہ الفضل، نمائندہ تشحیذ وخالد برائے لاہور اور سیکرٹری تعلیم القرآن اور سیکرٹری وصایا ضلع لاہور کی حیثیت سے خدمت کی توفیق ملی۔بوقتِ شہادت شہید کی عمر 31 سال تھی اور مجلس خدام الاحمدیہ میں بطور منتظم اشاعت خدمات سرانجام دے رہے تھے۔موصوف نے دارالذکر میں شہادت پائی۔ان کے بھائی بتاتے ہیں کہ ان کی ڈیوٹی عموماٹر یفک کنٹرول پر ہوتی تھی۔اس حوالے سے غالباً امکان یہی ہے کہ یہ سب سے پہلے شہید یا پہلے چند شہیدوں میں سے ہوں گے۔نظام وصیت میں شامل تھے۔اطاعت کا مادہ بہت زیادہ تھا۔کبھی کسی کام سے انکار نہیں کیا۔نہایت خدمت گزار تھے۔علاقے میں سماجی کارکن کے نام سے مشہور تھے۔مکرم سجاد اظہر بھروانہ صاحب شہید مکرم سجاد اظہر بھروانہ صاحب شہید ابن مکرم مہر اللہ یار بھروانہ صاحب۔یہ محمد اسلم بھروانہ صاحب شہید کے بھانجے تھے اور یہ بھی ضلع جھنگ کے رہنے والے تھے اور ریلوے میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر کلرک کی پوسٹ پر ملازمت کر رہے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 30 سال تھی۔خدام الاحمدیہ کے بہت ہی فعال اور ذمہ دار رکن تھے۔ان کو متعد تنظیمی عہدوں پر خدمت کی توفیق ملتی رہی۔شہید مرحوم نے دارالذکر میں شہادت پائی اور نظامِ وصیت میں شامل تھے۔ہمیشہ خدمت دین کا موقع تلاش کرتے رہے اور ہر آواز پر لبیک کہنے والے تھے۔بہت مخلص احمدی تھے۔آخری وقت تک فون پر معتمد صاحب ضلع شہباز احمد کو وقوعہ کے بارے میں اطلاع دیتے رہے اور اطلاع دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ایک خادم شعیب نعیم صاحب نے بتایا کہ سجاد صاحب آئے اور مجھے کہتے ہیں کہ مجھے آج یہاں ڈیوٹی دینے دیں۔میرا یہ دارالذکر میں آخری جمعہ ہے اس کے بعد میں نے گاؤں چلے جانا ہے۔چنانچہ میری جگہ انہوں نے ڈیوٹی دی اور اس ڈیوٹی کے دوران شہید ہو گئے۔گاؤں تو نہیں گئے لیکن اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ لے گیا جہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہے۔بہت 53