شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 54
خدمت گزار تھے۔اپنی ملازمت کے فوراًبعد جماعتی دفتر میں تشریف لے آتے تھے اور رات گیارہ بارہ بجے تک وہیں کام کرتے تھے۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ سجاد زخمی حالت میں گھر آئے ہیں اور کہا ہے کہ میرے پیٹ میں شدید تکلیف ہے۔میں نے کپڑا اٹھا کر دیکھا تو خون بہہ رہا تھا۔اور شہید مرحوم کے پیٹ میں گولیاں لگی ہوئی تھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔مکرم مسعود احمد اختر باجوہ صاحب شہید مکرم مسعود احمد اختر باجوہ صاحب شهید ابن مکرم محمد حیات باجوہ صاحب۔شہید مرحوم کے والد صاحب 7 / 191 ضلع بہاولنگر کے رہنے والے تھے۔پیچھے سے یہ سیالکوٹ کے تھے۔ان کے والد صاحب اپنے خاندان میں احمدیت کا باشمر پودا لگانے والے تھے۔ان کی وجہ سے ان کے خاندان میں احمدیت آئی۔انہوں نے حضرت مولوی عبداللہ باجوہ صاحب آف کھیوہ باجوہ کے ذریعہ احمدیت قبول کی۔آپ کے ایک بھائی چک میں صدر جماعت ہیں۔آپ نے بہاولنگر سے تعلیم حاصل کی ، پھر ربوہ سے پڑھے واپڈا کے ریٹائرڈ افسر تھے۔1975 ء سے لے کر 2000 ء تک ملازمت کے سلسلہ میں کوئٹہ رہے اور وہیں سے ریٹائر ہوئے۔2001ء میں لاہور شفٹ ہوئے۔مجلس انصار اللہ کے محنتی اور فعال ممبر تھے۔زعیم انصار اللہ اور امیر حلقہ دارالذکر تھے۔معاون سیکرٹری اصلاح و ارشاد واشاعت ضلع اور سیکرٹری تعلیم القرآن حلقہ دارالذکر بھی تھے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 72 سال تھی۔آپ نے دارالذکر میں شہادت پائی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ان کے بیٹے ڈاکٹر حامد صاحب امریکہ میں ہوتے ہیں انہوں نے بتایا کہ میں نے گرین کارڈ کے لئے اپلائی کرنا تھا مگر بوجوہ نہیں کر سکا۔تو میرے والد نے مجھے ایک ہزار ڈالر بھجوائے اور کہا کہ فورا گرین کارڈ کے لئے اپلائی کرو جلدی میں پاکستان آنا پڑ سکتا ہے۔چنانچہ میں نے اپلائی کر دیا اور چھپیں دنوں میں ہی گرین کارڈ مل گیا۔عموماً کہتے ہیں کہ چھ ماہ لگتے ہیں۔اور 54