شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 52 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 52

موصوف نے شادی سے پہلے خود خواب میں دیکھا کہ گھر میں صحن میں کھڑا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بالائی منزل سے مجھے دیکھ رہے ہیں اور میں حضور علیہ السلام کو دیکھ کر کہتا ہوں یہ تو حضور ہیں۔خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت بھی کی۔شہادت سے چند دن پہلے خواب میں دیکھا کہ سفید چاول کھا رہا ہوں۔اکثر معبرین جو ہیں وہ اس کی یہ بھی تعبیر کرتے ہیں کہ کسی کی خواہش کا پورا ہونا اور بلند درجہ ہونا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم منور احمد خان صاحب شہید مکرم منور احمد خان صاحب شہید ابن مکرم محمد ایوب خان صاحب۔یہ ڈیریاں والا ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔عرفان اللہ خان صاحب امیر ضلع نارووال کے کزن تھے اور قالینوں کا ان کا کاروبار تھا شہادت کے وقت ان کی عمر 61 سال تھی۔دارالذکر میں ان کی شہادت ہوئی۔مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اپنے چندہ جات با قاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ان کی تدفین لاہور میں ہانڈ و گجر قبرستان میں ہوئی ہے۔بچوں کو خاص طور پر تربیتی کلاسز میں حصہ لینے کی تاکید کرتے۔نیک انسان تھے، اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق تھا۔اہلیہ بتاتی ہیں کہ اس سے قبل جب حالات خراب ہوئے تو انہوں نے مجھے کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرے بچوں کو احمدیت اور خلافت سے منسلک رکھنا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی دعائیں اور خواہشات اپنی اولاد کے حق میں پوری فرمائے۔مکرم عرفان احمد ناصر صاحب شہید مکرم عرفان احمد ناصر صاحب شہید ابن مکرم عبدالمالک صاحب۔شہید مرحوم کے دادا میاں دین محمد صاحب نے 1934 ء میں بیعت کی تھی۔بدوملہی ضلع نارووال کے رہنے والے تھے۔ان کی پڑنانی محترمہ حسین بی بی صاحبہ حضرت مصلح موعودؓ کی بیٹی صاحبزادی 52