شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 27

اور انہیں مسجد میں ہی اطلاع مل گئی اور کہا گیا کہ فلاں ہسپتال پہنچ جائیں۔انہوں نے کہا کہ جانے والا خدا کے حضور حاضر ہو چکا، اب شاید میرے خون کی احمدی بھائیوں کو ضرورت پڑ جائے ، اس لئے میں تو اب یہیں ٹھہروں گا۔ایک ماں نے کہا کہ اپنی گود سے جواں سالہ بیٹا خدا کی گود میں رکھ دیا۔جس کی امانت تھی اس کے سپر د کر دی۔ہمارے مربی سلسلہ محمود احمد شاد صاحب نے ماڈل ٹاؤن میں اپنے فرض کو خوب نبھایا۔خطبہ کے دوران دعاؤں اور استغفار، صبر اور درود پڑھنے کی تلقین کرتے رہے۔بعض قرآنی آیتیں بھی دہرائیں۔دعا ئیں بھی دہرائیں اور درود شریف بھی بلند آواز سے دہرایا اور نعرہ تکبیر بھی بلند کیا اور آپ نے جام شہادت بھی نوش کیا۔سردار عبد السمیع صاحب نے بتایا کہ فجر کی نماز پر چک سکندر کے واقعات اور شہادتوں کا ذکر فرمارہے تھے کیونکہ یہ اس وقت وہاں متعین تھے۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ باہر سیڑھیوں کے نیچے صحن میں ڈیڑھ دو سو آ دمی کھڑے تھے۔اس وقت دہشتگر دفائرنگ کرتے ہوئے ہال کے کارنر میں تھے۔ایک آدمی بالکل صحن کے کونے تک آ گیا۔اگر وہ اس وقت باہر آ جاتا تو جو ڈیڑھ دو سو آدمی باہر تھے وہ شاید آج موجود نہ ہوتے۔لیکن میری آنکھ کے سامنے ایک انصار جن کی عمر لگ بھگ 65 سال یا اوپر ہوگی ، انہوں نے pillar کے پیچھے سے نکل کر اس کی طرف دوڑ لگا دی۔اور اس کی وجہ سے بالکل ان کی چھاتی میں گولی لگی اور وہ شہید ہو گئے لیکن ان کی بہادری کی وجہ سے دہشتگرد کے باہر آنے میں کچھ وقت لگا۔لیکن اس عرصہ میں بہت سے احمدی محفوظ جگہ پر پہنچ گئے اور پھر اس نے گرنیڈ بعد میں پھینکا۔اور کہتے ہیں جب ہم باہر آئے ہیں تو ہم نے دیکھا کہ بیشمار لوگ سیڑھیوں پر شہید پڑے تھے۔ایک صاحب نے مجھے لکھا، جو جاپان سے وہاں گئے ہوئے تھے اور جنازے میں شامل ہوئے کہ آخرین کی شہادتوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک کی یادوں کو تازہ کر دیا۔ربوہ کے پہاڑ کے دامن میں ان مبارک وجودوں کو دفناتے ہوئے کئی دفعہ ایسا لگا جیسے اس زمانے میں نہیں۔صبر و رضا کے ایسے نمونے تھے جن کو الفاظ میں ڈھالنا ناممکن ہے۔27