شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 26
یہ درندگی اور سفا کی تمہیں مبارک ہو جو خدا کے نام پر خدا کی مخلوق بلکہ خدا کے پیاروں کے خون کی ہولی کھیلنے والے ہو۔عوام کو مذہب کے نام پر دوبارہ چودہ پندرہ سو سال پہلے والی بد دوانہ زندگی میں لے جانے والے اور اس میں رہنے والے ہو۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت نہیں ہے۔اب کسی مسیح موعود کی آنے کی ضرورت نہیں ہے۔اب اس سے بھی انکاری ہوتے جارہے ہیں۔ہمارے لئے قرآن اور شریعت کافی ہے۔کیا تمہارے یہ عمل اس شریعت اور قرآن پر ہیں جو ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے؟ یقیناً نہیں۔تم میرے آقا ، ہاں وہ آقا جو محسن انسانیت تھا اور قیامت تک اس جیسا محسنِ انسانیت پیدا نہیں ہو سکتا، اس محسنِ انسانیت کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے ہو۔ناموس رسالت کے نام پر میرے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے والے ہو۔یقیناً قیامت کے دن لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کا کلمہ تم میں سے ایک ایک کو پکڑ کر تمہیں تمہارے بد انجام تک پہنچائے گا۔ہمارا کام صبر اور دعا سے کام لینا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہر احمدی اس پر کار بند رہے گا۔یہ صبر کے نمونے جب دنیا نے دیکھے تو غیر بھی حیران ہو گئے۔ظلم اور سفا کی کے ان نمونوں کو دیکھ کر غیروں نے نہ صرف ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ احمدیت کی طرف مائل بھی ہوئے بلکہ بیعت میں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔پس یہ ظلم جو تم نے ہمارے سے روا رکھا اس کا بدلہ اس دنیا میں ہمیں انعام کی صورت میں ملنا شروع ہو گیا۔میرا خیال تھا کہ کچھ واقعات بیان کروں گا لیکن بعض اتنے دردناک ہیں کہ ڈرتا ہوں کہ جذبات سے مغلوب نہ ہو جاؤں۔اس لئے سارے تو بیان نہیں کر سکتا۔چند ایک واقعات جو ہیں وہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہمارے نائب ناظر اصلاح و ارشاد ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ایک نمازی نے جب وہ جنازے پر آئے تھے، کسی کو مخاطب ہو کر کہا کہ ایک انعام اور ملا کہ شہید باپ کا بیٹا ہوں اور مجھے کہا کہ عزم اور حوصلے بلند ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں مکرم اعجاز صاحب کے بھائی شہید ہو گئے 26