شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 28

انصار اللہ کے لان میں میں نے اپنی دائیں طرف ایک بزرگ سے جو جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے پوچھا کہ چچا جان! آپ کے کون فوت ہوئے ہیں؟ فرمایا میرا بیٹا شہید ہو گیا ہے۔لکھنے والے کہتے ہیں کہ میرا دل دہل رہا تھا اور پُر عزم چہرہ دیکھ کر ابھی میں منہ سے کچھ کہتے رہا کر بھی میں منہ بول نہ پایا تھا کہ انہوں نے پھر فرمایا کہ الحمد للہ ! خدا کو یہی منظور تھا۔لکھنے والے کہتے ہیں کہ میرے چاروں طرف پر عزم چہرے تھے اور میں اپنے آپ کو سنبھال رہا تھا کہ ان کوہ وقار ہستیوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہ کروں کہ خود مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے۔کہتے ہیں کہ میں مختلف لوگوں سے ملتا اور ہر بار ایک نئی کیفیت سے گزرتا رہا۔خون میں نہائے ایک شہید کے پاس کھڑا تھا کہ آواز آئی میرے شہید کو دیکھ لیں۔اس طرح کے بے شمار جذبات احساسات میں لکھے۔ایک خاتون بھتی ہیں کہ میرے چھوٹے بچے بھی جمعہ پڑھنے گئے تھے اور خدا نے انہیں اپنے فضل سے بچالیا۔جب مسجد میں خون خرابہ ہورہا تھا تو ہماری ہمسائیاں ٹی وی پر دیکھ کر بھاگی آئیں کہ رو دھو رہی ہوگی۔یعنی میرے پاس آئیں کہ رو دھو رہی ہوں گی کیونکہ مسجد کے ساتھ ان کا گھر تھا۔لیکن میں نے ان سے کہا کہ ہمارا معاملہ تو خدا کے ساتھ تھا۔مجھے بچوں کی کیا فکر ہے؟ ادھر تو سارے ہی ہمارے اپنے ہیں۔اگر میرے بچے شہید ہو گئے تو خدا کے حضور مقرب ہوں گے اور اگر بچ گئے تو غازی ہوں گے۔یہین کر عورتیں حیران رہ گئیں اور الٹے پاؤں واپس چلی گئیں کہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہے؟ اور پھر آگے لکھتی ہیں کہ اس نازک موقع پر ربوہ والوں نے جو خدمت کی اور دکھی دلوں کے ساتھ دن رات کام کیا اس پر ہم سب آپ کے اور ان کے شکر گزار ہیں۔ایک ماں کا اٹھارہ سال کا اکلوتا بیٹا تھا۔ایک لڑکا تھا باقی لڑکیاں ہیں۔میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔شہید ہو گیا اور انتہائی صبر اور رضا کا ماں باپ نے اظہار کیا اور یہ کہا کہ ہم بھی جماعت کی خاطر قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔مسلم الد روبی صاحب سیریا کے ہیں وہ بھی ان دنوں میں وہاں گئے ہوئے تھے۔اور 28