شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 51 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 51

مکرم مرزا اکرم بیگ صاحب شہید مکرم مرزا اکرم بیگ صاحب شہید ابن مکرم مرزا منور بیگ صاحب یه شهید مرحوم مرزا عمر بیگ صاحب کے پوتے تھے اور عمر بیگ صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔پارٹیشن کے وقت قادیان سے ہجرت کر کے آئے تھے۔اور ایوب اعظم بیگ صاحب شہید آف واہ کینٹ ان کے حقیقی ماموں تھے۔ان کے ماموں کو واہ کینٹ میں میرا خیال ہے 98-1997 ء میں شہید کیا گیا۔بوقتِ شہادت شہید کی عمر 58 سال تھی۔مجلس انصار اللہ کے ممبر تھے اور دارالذکر میں ہی شہید ہوئے۔موصوف کی شہادت گرینیڈ کے شیل لگنے سے ہوئی تھی۔ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اپنے بیٹے کو فون کیا اور کہا کہ میں زخمی ہوں میرے لئے دعا کرنا اور اہلیہ کے ساتھ بات کی کہ میں معمولی سا زخمی ہوں میرے لئے دعا کریں۔بڑا بیٹا فرحان بھی مسجد میں ساتھ موجود تھا جو ان کو تلاش کرتا رہا لیکن اندازہ ہے کہ جب یہ افواہ مشہور ہوئی کہ دہشتگرد چلے گئے ہیں اور جو کارروائی وہ کر رہے ہیں ختم ہوگئی ہے جو غلط اعلان تھا تو باہر نکلتے ہوئے ان کو گولی لگی۔بڑے عبادت گزار تھے پانچ وقت کے نمازی، بہت ہمت والے انسان تھے۔ہر سال اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔اصول پسند اور وقت کی پابندی کرنے والے تھے۔ان کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ ان کی وجہ سے ہمارا گھر گھڑی کی سوئی پر چلتا تھا۔بزرگوں کا احترام کرنے والے تھے، بچوں سے بہت پیار تھا۔اپنے داماد سے اکثر ذکر کرتے کہ عبادت میں جو پانا چاہ رہا ہوں وہ ابھی تک نہیں ملا، شاید کچھ کمی ہے۔شہید مرحوم نے کچھ عرصہ قبل خود خواب میں دیکھا کہ میں کسی پل پر چل رہا ہوں اور سات آٹھ قدم چلنے کے بعد پل ختم ہو گیا ہے۔خود ہی اس کی تعبیر کی کہ زندگی تھوڑی رہ گئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بلند مقام دیا۔شہید مرحوم کے بچے بتاتے ہیں کہ جب بھی کسی کی شہادت ہوتی تو کہا کرتے تھے کہ کبھی ایسا موقع آئے کہ ہم بھی شہید ہوں۔اپنے ماموں کی شہادت پر کہا کہ کاش ان کو لگنے والی گولی مجھے لگی ہوتی۔51