شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 50 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 50

میرے گلے میں ہار ڈالتی ہیں۔ایک عورت نے مجھے گلے لگایا اور ایک گولڈن پیکٹ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو مہندی کرلی ہے۔آپ نے کب کرنی ہے؟ میں نے کہا کہ گھر جا کر کرتے ہیں۔یہ والدہ کی خواب تھی۔شہید مرحوم کے بھائی نے اپنی خواب کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کامران بہت سارے پھولوں میں کھڑا ہے۔شہید کی والدہ لمبا عرصہ حلقہ دارالذکر کی صدر رہی ہیں اور والد سیکرٹری مال رہے ہیں۔اس حادثے میں شہید کے ماموں مظفر احمد صاحب بھی شہید ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم اعجاز احمد بیگ صاحب شہید مکرم اعجاز احمد بیگ صاحب شہیدا ابن مکرم محمد انور بیگ صاحب۔یہ شہید مرحوم قادیان کے قریب لنگر وال گاؤں کے رہنے والے تھے۔والدہ کی طرف سے محمدی بیگم کے رشتے دار تھے۔تیمور جان صاحب ابن عبدالمجید صاحب ( نظام جان ) کے بہنوئی تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 39 سال تھی۔مجلس خدام الاحمدیہ سے وابستہ تھے اور دارالذکر میں شہید ہوئے۔اہلیہ ان کے بارے میں بیان کرتی ہیں کہ ان کو یورین انفیکشن تھی اور دو سال سے ن بیمار تھے۔دو مہینے کے بعد پہلی دفعہ جمعہ پڑھنے گئے اور جمعہ سے پہلے خاص طور پر تیاری کی۔دو ماہ کے بعد صحت میں بہتری آئی اور ان کو تیار ہوا دیکھ کر کہتی ہیں مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ آج پہلے کی طرح اچھے لگ رہے ہیں۔لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔بہت سادہ اور متوکل انسان تھے۔کبھی پریشان نہ ہوتے تھے۔صابر تھے، کبھی کسی کے منفی طرز عمل کے جواب میں رد عمل کے طور پر منفی طرز عمل نہیں دکھایا۔آپ پرائیویٹ ڈرائیونگ کرتے تھے۔ان دنوں جنرل ناصر صاحب شہید کے ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند کرے۔50