شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 179

ہوئے فرمایا دیکھو میں نے کہا تھا ناں کہ محمد حسین ٹھیک کر دے گا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی اولا دکو بھی احمدیت حقیقی اسلام کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے۔یہ واقعات تو ایسے ہیں کہ اگر ان کی تفصیلات میں جایا جائے تو یہ لمبا سلسلہ چلا جائے گا۔اس لئے میں نے مختصر بیان کئے ہیں۔یہ اب شہداء کا ذکر تو ختم ہوا۔یہ ذکر جو میں نے شہداء کا کیا ہے اس میں ہمیں ان سب میں بعض اعلیٰ صفات قدر مشترک کے طور پر نظر آتی ہیں۔ان کا نمازوں کا اہتمام اور نہ صرف خودنمازوں کا اہتمام بلکہ اپنے بچوں اور گھر والوں کو بھی اس طرف توجہ دلانا۔کوئی اپنے کام کی جگہ سے فون کر کے بچوں کو نماز کی یاد دہانی کروا رہا ہے تو کوئی مسجد اور نماز سینٹر دور ہونے کی وجہ سے گھر میں ہی نماز با جماعت کا اہتمام کر رہا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ انہیں فکر تھی کہ نمازیں ان کی اور ان کے اہل کی اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں بھی خیر اور بھلائی کی ضمانت ہیں۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب پانے کے راستے عبادات سے ہی متعین ہوتے ہیں۔ان سب میں ہم نماز جمعہ کا خاص اہتمام دیکھتے ہیں۔بعض نوجوان گھر سے تو یہ کہہ کر نکلتے تھے کہ شاید کام کی وجہ سے جمعہ پر نہ جاسکیں ، لیکن جب جمعہ کا وقت آتا تھا تو سب دنیاوی کاموں کو پس پشت ڈال کر جمعہ کے لئے روانہ ہو جاتے تھے۔پھر بہت سے ایسے ہیں جو تہجد کا التزام کرنے والے ہیں۔بعض اس کوشش میں رہتے تھے کہ نوافل اور تہجد کی ادائیگی ہو، اکثر نوجوان شہداء میں بھی اور بڑی عمر کے شہداء میں بھی یہ خواہش بڑی شدت سے نظر آتی ہے کہ ہمیں شہادت کا رتبہ ملے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دوسرے اخلاق حسنہ کس کثرت سے ان میں نظر آتے ہیں۔یہ اخلاق حسنہ جو ہیں، گھریلو زندگی میں بھی ہیں اور گھر سے باہر زندگی میں بھی ہیں۔جماعتی کارکنوں اور ساتھیوں کے ساتھ جماعتی خدمات کی بجا آوری کے وقت بھی ان اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ ہورہا تھا۔تو اپنے کام اور کاروبار کی جگہوں پر بھی اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو اپنے اعلیٰ اخلاق سے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا۔مرد کے اعلیٰ اخلاق اس کے اپنے اہل کی اس کے اخلاق کے بارے میں گواہی سے پتہ چلتے ہیں۔179