شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 178

بجے تیار ہو کر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نکل پڑتے۔سانحہ کے روز مسجد دارالذکر کے مین ہال میں موجود تھے۔ان کی نعش دیکھی گئی تو ان کے دائیں جانب کا سارا حصہ جل چکا تھا۔پیٹ پر بھی کافی زخم تھے۔غالباً گرنیڈ پھٹنے سے شہادت ہوئی ہے۔شام کو میوہسپتال سے ان کے غیر از جماعت لواحقین ان کی نعش لے گئے اور جنازہ اور تدفین بھی انہوں نے ہی کی۔اہلِ خانہ کے مطابق شہید مرحوم نماز کے پابند تھے۔چندہ جات باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔باوجود اس کے کہ مالی حالت زیادہ اچھی نہ تھی اپنی ضروریات سے بچا کر غریب اور ضرورتمندوں کی بلا تفریق مذہب وملت مدد کرتے تھے۔جماعت سے بہت مضبوط تعلق تھا۔اہلِ خانہ نے مزید بتایا کہ عام طور پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے پہلی صفوں میں بیٹھتے تھے۔بڑھاپے کی وجہ سے یہ یاد نہ رہتا تھا کہ آج کونسا دن ہے؟ کیونکہ گھر والے تمام غیر از جماعت ہیں، تو وہ نہ بتاتے تھے کہ آج جمعہ ہے۔شہید مرحوم نے ایک فقیر کے آنے کی نشانی رکھی ہوئی تھی کہ یہ فقیر جمعہ کو آتا ہے، کبھی بھول جاتے تو اس فقیر کو دیکھ کر یاد آ جاتا کہ آج جمعہ ہے۔لیکن اچانک ایک دن فقیر نہ آیا ایک بیٹی نے یاد دلایا کہ آج جمعہ ہے اور بغیر کھانا کھائے ہی جلدی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکل گئے۔بڑے بیٹے نے بتایا کہ عموماً رات کو بستر پر نہ ہوتے۔جب ان کو ڈھونڈھتے تو جائے نماز پر نماز ادا کر رہے ہوتے۔بچوں کو کہا کرتے تھے کہ مجھے اہلِ بیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے اور تم کو نہیں ہے۔میں نے خواب میں اہلِ بیت سے ملاقات بھی کی ہے۔بیٹے نے مزید بتایا که عموماًدس محرم کو روزہ رکھا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورہ کوئٹہ کا بہت ذکر کیا کرتے تھے کہ جب حضور کا پارک ہاؤس والی کوٹھی میں قیام تھا تو انہوں نے وہاں پر دن رات مرمت وغیرہ کا کام کیا۔جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو فرماتے تھے کس نے کام کروایا ہے۔دیواروں سے خلوص ٹھیک رہا ہے۔اسی قیام کے دوران ایک دن پانی کا پائپ لیک (Leak) کر رہا تھا تو ٹھیک نہ کر سکا، تو حضور نے فرمایا کہ محمد حسین کو بلاؤ وہ ٹھیک کر دے گا۔اور جب انہوں نے ٹھیک کر دیا تو بہت خوش 178