شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 152

رکھنا ہے، آپ بس دعا ئیں کریں۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے، ان کی اہلیہ تو احمدی تھیں، بیٹا کہتا ہے کہ اگر میری ماں کو کبھی جماعت کا لٹریچر پڑھتے دیکھ لیتے تھے تو بہت غصہ آتا اور انہوں نے میری ماں کو سختی سے کہہ دیا تھا کہ یہاں احمدیوں کی کوئی کتاب نظر نہیں آنی چاہئے۔پھر ایک دفعہ احمدی رشتے داروں کے پاس ملتان گئے۔کہتے ہیں کہ میری ممانی بتاتی ہیں کہ وہاں انہوں نے گلشن وقف نو کا پروگرام دیکھا جو ایم ٹی اے پر آرہا تھا۔تو اگلے دن ان سے ہی جن کے گھر مہمان گئے تھے دوبارہ پوچھا کہ وہ جو کل پروگرام لگا ہوا تھا وہ روز لگتا ہے؟ ممانی نے کہا : جی روز لگتا ہے۔تو بیٹا کہتا ہے کہ ابو نے کہا اچھا پھر اس کو دوبارہ لگائیں۔پھر کچھ عرصہ بعد ماموں کے کہنے پر میری ماما نے ابو کو ڈش لگانے کا کہا تو فوراً گئے اور خود ڈش لا کر لگائی اور ایم ٹی اے سیٹ کیا۔خطبات نہایت شوق سے سنتے تھے۔پھر ا تو نے مارچ 2009ء میں بیعت کر لی۔یہ بیٹے کا بیان ہے۔پھر یہ بیٹا کہتا ہے کہ جب پیارے ابو شہید ہوئے تو اس وقت بھی انہوں نے چندہ دیا ہوا تھا لیکن اس کی رسید ان کی شہادت کے بعد مربی صاحب نے ہمیں دی۔پھر بیٹا لکھتا ہے کہ ابا کی شہادت کے بعد ہمارے محلے میں مخالفت شروع ہو گئی ہے اور فتووں کے پوسٹر اور سٹکر وغیرہ چسپاں ہو رہے ہیں اور پمفلٹ بانٹے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔مکرم منصور احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم منصور احمد صاحب شہید ابن مکرم عبدالحمید جاوید صاحب کا۔شہید مرحوم کے خاندان کا تعلق شاہدرہ لاہور سے ہے۔ان کے پڑ دا د مکرم غلام احمد صاحب ماسٹر تھے۔غالباً حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے دورِ خلافت میں بیعت کی تھی۔1953 ء میں ان کے مکانات کو آگ لگادی گئی جس کے بعد ربوہ چلے گئے۔پھر والد صاحب 1970ء کے قریب کراچی چلے گئے۔1974ء میں کراچی میں ان کے والد محترم کی دکان کو آگ لگا دی گئی جس کے بعد یہ لاہور شفٹ ہو گئے۔152