شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 153

شہید مرحوم امپورٹ ایکسپورٹ کی ایک فرم میں ملازمت کرتے تھے۔باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کا ایک بھائی مانچسٹر میں تھا۔کچھ دنوں سے کہہ رہے تھے کہ میں نے ربوہ سیٹ ہونا ہے۔بوقت شہادت ان کی عمر 36 برس تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظامِ وصیت میں بھی شامل تھے۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔شہید مرحوم کے دفتر والے جو ان کی بہت تعریف بھی کر رہے تھے، بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ ایک اور احمدی دوست بھی کام کرتے تھے۔ان کو ہر جمعہ پر اپنے ساتھ لے کر جاتے۔سانحہ کے روز کہا کہ ہر جمعہ پر آپ مجھے لیٹ کروا دیتے ہیں، آج کسی صورت بھی لیٹ نہیں ہونا۔اور باقاعدہ لڑائی کر کے بحث کر کے، اپنے دوست کو جمعہ کے لئے جلدی لے کر گئے۔مسجد پہنچ کر پہلی صف میں سنتیں ادا کیں۔حملے کے دوران اپنے دفتر فون کر کے کہا کہ میں بہت زیادہ زخمی ہو گیا ہوں ، خون کافی بہہ گیا ہے، مجھے بچانے کی کوشش کریں۔گھر سے والدہ نے فون کیا تو ان کو بھی یہی کہا کہ کسی کو بھیجیں تا کہ ہمیں یہاں سے نکال سکے۔اہلیہ سے گفتگو کے دوران بھی گولیاں چلنے کی آوازیں انہوں نے سنیں۔پھر ان کی آواز بند ہوگئی۔شہید مرحوم کی اہلیہ نے بتایا کہ بہت زیادہ حساس طبیعت کے مالک تھے۔شہادت سے ایک ہفتہ قبل مجھ سے کہا کہ آپ بچوں کا خیال رکھا کریں، بچوں کی ذمہ داری آپ بہتر طریقے سے نبھا سکتی ہیں۔اب میں شاید بچوں کو زیادہ وقت نہ دے سکوں۔بچوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ اٹیچ (Attach) کرو تا کہ یہ مجھے یاد نہ کریں۔شہادت کے روز صبح کے وقت کہا کہ بیٹا شانزیب محسن ( جو صحتمند اور خوبصورت ہے) جب تین سال کا ہو جائے گا تو اسے ہم نے ربوہ بھیج دینا ہے اور جماعت کو پیش کرنا ہے۔وہ اسے جو چاہیں بنا لیں۔کچھ عرصہ قبل ایک پڑوسی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔وہ موٹر سائیکل چلانے کے قابل نہیں رہے تھے۔شہید مرحوم کافی عرصہ مسلسل ان کو گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر واپس لاتے رہے۔مذکورہ پڑوسی کی والدہ نے جب شکریہ ادا کرنے کی کوشش کی تو کہا کہ جب تک میری سانس ہے میں آپ کے بیٹے کو ساتھ لے کر جاتا اور آتا رہوں گا، شکریہ کی کوئی بات نہیں۔ایک مربی صاحب نے ان 153