شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 151
و ہیں جانا ہے۔کچھ دن پہلے تلاوت کے کسی مقابلے میں حصہ لیا اور پہلا انعام حاصل کیا اور انعام میں ایک جائے نماز ملی جس پر بہت خوش تھے۔یہ ان کی بیوی کے بھائی کا خط ہے۔کہتے ہیں کہ خاکسار کے بہت مخلص، سادہ طبیعت اور پیارے بہنوئی کی یہ باتیں خاکسار کی ہمشیرہ نے ان کی شہادت کے بعد بتائیں۔میرے بہنوئی اپنے خاندان کے پہلے احمدی تھے۔ان کے رشتے داروں کی طرف سے مخالفت تھی۔بہت زیادہ ہنس مکھ اور ہر کسی کا خیال رکھنے والے تھے۔ہر کسی کے غم یا خوشی میں سب سے آگے ہوتے تھے۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں که مارچ 2009ء میں بیعت کی تھی۔میں پیدائشی احمدی ہوں اور میرے بچوں اور میاں نے اکٹھے بیعت کی تھی۔میری شادی کے بعد احمدیت کے بہت بڑے مخالف تھے بلکہ پورا سسرال ہی مخالف تھا لیکن ظفر صاحب تب بھی نماز کے بہت پابند اور بہت اچھے اخلاق کے مالک تھے۔دس سال تک سعودی عرب رہے۔ماشاء اللہ پانچ حج اور لاتعداد عمرے کئے۔1986ء میں پھر سے پاکستان آگئے۔احمدیت میں آنے سے پہلے بھی بحیثیت شوہر کے انتہائی پیار کرنے والے شوہر اور باپ تھے۔اپنے بچوں کے علاوہ دوسرے بچوں سے بھی بے حد پیار کرتے تھے۔احمدیت میں آنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ نمازوں کی پابندی اور تہجد کی پابندی کرنے لگے۔کتابیں پڑھنے کا زیادہ شوق نہیں تھا لیکن بیعت کرنے کے بعد سونے سے پہلے اکثر مجھے کہتے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب پڑھ کر سناؤ، یا خود پڑھ کر سوتے تھے۔ایک دو ماہ پہلے ہم سب گھر والوں نے نوٹ کیا تھا، احمدیت سے بہت زیادہ وابستہ ہو گئے تھے۔انصار اللہ کی کوئی بھی تقریب ہوتی تو ضرور شرکت کرتے اور ہمیشہ سب سے آگے بیٹھے ہوتے۔ان کے بیٹے نے کہا کہ انہوں نے مجھے مسجد سے فون کیا لیکن میں مصروف تھا تو میں نے فون ریسیو نہیں کیا۔پھر مجھے پتہ لگا کہ مسجد میں اس طرح فساد ہو رہا ہے۔جب میں گھر آیا تو میں نے ان کو فون کیا۔انہوں نے مجھے بھی کہا کہ یہاں بہت فائرنگ ہو رہی ہے، آپ ہمارے لئے بہت دعا کریں۔میں نے کہا کہ ابو جی اپنا خیال رکھنا۔اس وقت بھی انہوں نے ہنس کر جواب دیا کہ کیا خیال رکھوں، خیال تو اللہ میاں نے 151