شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 145
تمام بچوں سے بہت شفقت کا سلوک کرتے اور کہتے تھے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں اس لئے مجھے پسند ہیں۔لکھتی ہیں کہ شہادت سے قریباً دو ماہ قبل میں نے خواب میں دیکھا کہ عمر کی دوسری شادی ہورہی ہے اور میں زار و قطار رو رہی ہوں۔اس خواب کا ذکر میں نے عمر سے بھی کیا لیکن انہوں نے ہنس کر ٹال دیا۔لکھتی ہیں کہ بہت زیادہ صفائی پسند تھے۔اسی طرح دل کے بھی بہت صاف تھے۔کبھی کسی کو تکلیف نہ دی۔سخت گرمی میں بھی پاکستان میں گرمی بہت شدید ہوتی ہے، ہر ایک جانتا ہے۔دو پہر کو آفس سے آتے تو ہلکی سی گھنٹی بجاتے تا کہ کوئی ڈسٹرب نہ ہو۔اکثر اوقات تو کافی کافی دیر آدھ آدھ گھنٹہ تک باہر ہی خاموش کھڑے رہتے۔آفس کے تمام لوگ بے حد تعریف کرتے تھے۔یہ گورنمنٹ ریسرچ کے ادارے میں تھے۔اور کہتے تھے کہ ہمارا ایک بہت ہی پیارا بچہ ہم سے علیحدہ ہو گیا۔آفس کا تمام سٹاف گھر افسوس کرنے کے لئے آیا۔جب بھی کوئی پریشانی ہوتی تو فور أخلیفہ وقت کو خط لکھتے۔اور کہتی ہیں مجھے بھی کہتے تھے کہ خط ضرور لکھا کرو۔میرے والدین اور تمام عزیز رشتے داروں کی بہت زیادہ عزت کیا کرتے تھے۔اپنے دوستوں کی بہت عزت کرتے تھے۔ان کے لئے ضرور تھوڑا بہت وقت نکالتے۔جو بھی خلیفہ وقت کی طرف سے تحریک ہوتی چاہے وہ دعاؤں کی ہو ، روزہ ہو، تہجد ہو، صدقات ہوں فوراً اس پر کمر بستہ ہو جاتے۔تمام چندہ جات بر وقت ادا کرتے اور ہمیشہ صحیح آمد پر چندہ بنواتے تھے، بجٹ بنواتے تھے۔23 مئی کو انہوں نے چندہ حصہ آمد کی آخری قسط جو کہ ساڑھے نو ہزار روپے تھی ادا کیا اور گھر آکر مجھے اور باقی سب گھر والوں کو بڑی خوشی سے بتایا کہ شکر ہے کہ آج چندہ پورا ہو گیا۔جب سے سیدنا بلال فنڈ کا اجراء ہوا اس وقت سے اس فنڈ میں باقاعدگی سے چندہ دیتے تھے۔کبھی گھر میں سالگرہ منانے اور تحائف دینے کی بات ہوتی تو سخت نا پسند کرتے اور کہتے کہ آپ کو پتہ نہیں کہ حضور نے منع فرمایا ہے بلکہ کہتے کہ یہ پیسے جماعت کی کسی مد میں دے دو تو زیادہ اچھا ہے۔چند دن ہسپتال میں رہے، پھر اس کے بعد ان کی شہادت ہوئی ہے۔145