شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 146
مکرم لعل خان ناصر صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم لعل خان ناصر صاحب شہید ابن مکرم حاجی احمد صاحب کا۔شہید مرحوم اور حمال ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا نے اپنے خاندان میں سب سے پہلے بیعت کی تھی۔بچپن میں شہید مرحوم کے والد وفات پاگئے تھے۔والدہ بھی 1995ء میں وفات پاگئیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد ربوہ آگئے تھے۔بی اے تک تعلیم حاصل کی جس کے بعد بسلسلہ ملازمت کچھ عرصہ کے لئے کراچی چلے گئے۔بعد میں تربیلا میں ملازمت مل گئی۔اس وقت گریڈ سترہ کے بجٹ اکاؤنٹ آفیسر تھے اور گریڈ اٹھارہ ملنے والا تھا۔دورانِ ملا زمت ملتان اور وہاڑی میں بھی بھر پور جماعتی خدمات کا موقع ملا۔اس کے علاوہ مظفر گڑھ میں پہلے قائد ضلع اور پھر امیر ضلع مظفر گڑھ کی حیثیت سے بھی خدمت سرانجام دیتے رہے۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 52 سال تھی اور نظام وصیت میں شامل تھے۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں شہادت کا رتبہ پایا۔مسجد بیت النور کے دوسرے ہال میں بیٹھے تھے۔دہشتگر دوں کے آنے پر آپ نے بھاگ کر دروازہ بند کیا اور احباب جماعت سے کہا کہ آہستہ آہستہ ایک طرف ہو جائیں۔اسی دوران دروازے میں سے دہشتگرد نے گن کی نالی اندر کر کے فائر کئے جو آپ کے سینے میں لگے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ان کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ سانحہ سے ایک روز قبل شہید مرحوم غالبا کوئی خواب دیکھتے ہوئے ایک دم ہڑ بڑا کے اٹھ گئے تھے۔میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے؟ تو خاموش رہے۔تاہم اٹھ کر بچوں کو دیکھا لیکن خواب نہیں سنائی۔بڑے بیٹے نے بتایا کہ تدفین سے اگلے روز غیر از جماعت لڑکوں کے گالیوں بھرے ایس ایم ایس (SMS) آتے رہے۔یہ ان کی اخلاقی حالت کا حال ہے۔لڑکے نے بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کالی سکرین ہے جس پر سفید الفاظ لکھے آ رہے ہیں اور ساتھ ہی ابو شہید کی آواز آتی ہے کہ ignore کروسب کو، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے قربانی دی۔شہید مرحوم کے ایک عزیز نے شہادت کے بعد 146