شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 144
طبیعت انسان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا۔بچپن سے ہی شہادت کا شوق تھا۔دوسری اور تیسری کلاس میں تھے کہ میجر عزیز بھٹی کو خط لکھا کہ مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں۔عزیز بھٹی شہید تھے پاکستان کے فوجی ، ان کا کتاب میں ذکر تھا۔اور ایک فرضی خط لکھا، کہ مجھے آپ بہت اچھے لگتے ہیں میں بھی آپ کی طرح شہید ہونا چاہتا ہوں۔یہ مختصر خط ان کی والدہ کے پاس محفوظ ہے۔شادی کے بعد اکثر شہادت کے موضوع پر بات کرتے رہتے تھے۔ایک دن کہنے لگے کہ میں نے بہت ہی غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جنت میں جانے کا واحد شارٹ کٹ شہادت ہے۔لیکن میری قسمت میں کہاں؟ انہوں نے دو دفعہ آرمی میں کمیشن کوشش کی تھی لیکن دونوں دفعہ آخری سٹیج پر رہ گئے۔اس کا انہیں بہت دکھ تھا۔وہ خیال کرتے تھے کہ شہادت کے لئے فوج ہی اچھا ذریعہ ہے۔یہ ان لوگوں کو بھی جواب ہے جو کہتے ہیں کہ جماعت احمد یہ ملک کے خلاف ہے۔ان میں ملک کی خدمت کا جذبہ اس طرح کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔اکثر کہتی ہیں کہ مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ دیکھنا جب بھی جماعت کو کوئی ضرورت ہوئی تو عمر پہلی صف میں ہوگا اور سینے پر گولی کھائے گا۔اور یہ جو خط لکھا تھا، میجر عزیز بھٹی شہید کو اس کے نیچے بھی لکھا تھا، میجر عمر شہید۔گھر پر ہوتے تو مسجد میں جا کر نماز ادا کرتے۔نماز مغرب پر مسجد جاتے اور عشاء پڑھنے کے بعد کچھ نہ کچھ جماعتی کام کرنے کے بعد واپس آتے ، یہ ان کا معمول تھا۔خدام الاحمدیہ میں نہایت مستعد تھے۔سال میں ایک دو دفعہ وقف عارضی پر جاتے تھے۔خدمت خلق کا بے انتہا شوق تھا۔سال میں دو دفعہ ضرور خون کا عطیہ دیا کرتے تھے۔جس دن دارالذکر میں زخمی ہوئے اس دن صبح دفتر جانے کے لئے جلدی میں نکلے یہ کہتے ہوئے کہ مجھے دیر ہو رہی ہے، چونکہ ان کے آفس سے مسجد دارالذکر قریب پڑتی تھی، اس لئے وہ جمعہ وہیں پڑھتے تھے، میری چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی ضرورت کا خیال رکھا۔اپنی بیٹی سے جو کہ اب آٹھ ماہ کی ہوگئی ہے، بہت پیار کرتے تھے، دفتر سے آکر اس کے ساتھ بہت دیر تک کھیلتے تھے، اس کے بارے میں کسی بھی قسم کی بے احتیاطی برداشت نہیں کرتے تھے۔اہلیہ محتی ہیں کہ صرف اپنی بیٹی ہی نہیں بلکہ 144