شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 128

حالت میں میوہسپتال لے جایا گیا جہاں آپریشن تھیٹر میں شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ پنجوقتہ نماز کے پابند تھے، تہجد باقاعدگی سے ادا کرتے۔ہر نیکی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔پیشہ کے لحاظ سے الیکٹریشن تھے۔غریبوں اور ضرورتمندوں کا کام بغیر معاوضہ کے کر دیتے تھے۔اپنے حلقہ کی مسجد اپنی نگرانی میں تعمیر کروائی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم مرز امحمد امین صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم مرزا محمد امین صاحب شہید ابن مکرم حاجی عبدالکریم صاحب کا۔شہید مرحوم کے والد جموں کشمیر کے رہنے والے تھے۔انہوں نے 1952ء میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت اختیار کی۔والد صاحب کے بیعت کرنے کے کچھ عرصہ بعد شہید مرحوم نے بھی بیعت کر لی تھی۔بوقت شہادت ان کی عمر 70 سال تھی اور مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا۔عموماً مسجد دارالذکر میں نماز جمعہ ادا کرتے تھے۔پہلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے کہ گرینیڈ اور گولیوں کے حملہ میں شدید زخمی ہو گئے۔تین دن ہسپتال میں زیر علاج رہے۔31 مئی کو ہسپتال میں ہی شہید ہو گئے۔سانحہ سے دو دن قبل رات کو سوئے ہوئے تھے کہ اچانک اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے اللہ اکبر کہہ کر اٹھ بیٹھے۔ہڑ بڑا کر نعرہ لگاتے ہوئے اٹھے۔نہایت خوش اخلاق اور ملنسار تھے۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔مختلف جماعتی مقابلہ جات میں انعامات بھی حاصل کئے۔مکرم ملک زبیر احمد صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ملک زبیر احمد صاحب شہید ابن مکرم ملک عبدالرشید کا۔شہید مرحوم ضلع فیصل آباد کے رہنے والے تھے۔ان کے دادا مکرم ملک عبدالمجید خان صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں احمدیت قبول کی تا ہم حضور علیہ السلام کی زیارت نہ کر پائے۔شہید مرحوم نے فیصل آباد میں محکمہ واپڈا میں ملازمت کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد 128