شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 127

والے تھے۔ان کے پڑنا نا حضرت جان محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔ڈسکہ کے رہنے والے تھے۔ان کے والد صاحب ائیر فورس میں ملازم تھے۔بسلسلہ ملازمت مختلف مقامات پر تعینات رہے۔شہید مرحوم لاہور میں پیدا ہوئے۔I۔COM کیا ہوا تھا۔بوقت شہادت ان کی عمر 48 سال تھی۔اپنے حلقہ کے نائب زعیم انصار اللہ اور سیکرٹری تحریک جدید کے طور پر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔بیت النور میں جام شہادت نوش فرمایا۔جمعہ کے روز جلدی تیار ہو گئے۔عموماً ان کے بھائی ساتھ لے کر جاتے تھے ، کیونکہ ان کا ایک پاؤں پولیو کی وجہ سے کمزور تھا۔اگر بھائی لیٹ ہوتے تو خود ہی وین پر چلے جاتے۔سانحہ کے وقت پہلی صف میں بیٹھے ہوئے تھے۔شروع میں ہونے والے حملے میں تین چار گولیاں لگیں جس سے موقع پر ہی شہید ہو گئے۔اہل خانہ نے بتایا کہ شهید مرحوم پنجوقتہ نماز کے پابند تھے روزانہ اونچی آواز میں تلاوت قرآن کریم کیا کرتے۔معذوری کے باوجود اپنا کام خود کرتے تھے۔خلافت سے عشق تھا۔اپنی استطاعت سے بڑھ کر چندہ ادا کرتے تھے۔سلسلہ کی بہت ساری کتب کا مطالعہ کر چکے تھے۔بہت دعا گو انسان تھے۔اللہ تعالیٰ درجات بلند فرمائے۔مکرم محمد حسین ملی صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم محمد حسین ملہی صاحب شہید ابن مکرم محمد ابراہیم صاحب کا۔شہید کا تعلق گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ سے تھا۔ان کے والد محترم نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔کچھ عرصہ سندھ میں بھی رہے۔34 سال سے لا ہور میں مقیم تھے۔ان کو جماعتی سکولوں میں بھی پڑھانے کا موقع ملا۔بوقت شہادت ان کی عمر 68 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔ہانڈ و گجر لاہور میں تدفین ہوئی۔سانحہ کے روز ایک بجے کے قریب سائیکل پر گھر سے نکلے اور مسجد بیت النور کے مین ہال میں پہلی صف میں بیٹھے تھے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے بازو اور پیٹ میں گولیاں لگیں اور شدید زخمی ہو گئے۔زخمی 127