شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 129
سانحہ سے قریباً ایک ماہ قبل لاہور شفٹ ہوئے تھے۔فیصل آباد میں مسجد بیت الفضل کی تعمیر میں ان کے والد صاحب کا نام بنیادی لوگوں میں شامل تھا۔ابتدا میں دیگر حلقہ جات میں نماز جمعہ ادا کرتے رہے لیکن بیت النور ماڈل ٹاؤن کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ یہاں احمدی اکٹھے ہوتے ہیں اور کافی تعداد میں ہوتے ہیں اور بیٹے کو کہا کہ مجھے یہاں ہی لایا کرو۔بوقت شہادت ان کی عمر 61 سال تھی اور مسجد بیت النور میں ان کی شہادت ہوئی۔شہید مرحوم مین ہال میں بیٹھے تھے اور بیٹا دوسرے ہال میں تھا۔فائرنگ کے دوران ہال کے درمیان گرل (Grill) کے پاس جاتے ہوئے یہ گرے ہیں یا بیٹھے ہیں بہر حال وہیں بیٹھے تھے۔بیٹا ان کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا تو بیٹے کو تو یہ نظر نہیں آئے لیکن انہوں نے بیٹے کو دیکھ لیا اور زور دار آواز میں کہا ” کدھر بھاگے پھرتے ہو ، اگر کچھ ہو گا تو ہم شہید ہوں گے اور یہاں اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی شہید ہوں گے۔اسی دوران ان کو دل پر گولی لگی ، شدید زخمی ہو گئے۔اسی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی شہادت ہو گئی۔اہل خانہ بتاتے ہیں کہ نمازی اور تہجد گزار تھے۔تہجد میں کبھی ناغہ نہیں کیا۔اکثر وقت MTA دیکھتے تھے۔شہید مرحوم کہا کرتے تھے کہ اگر تھکاوٹ کی وجہ سے کبھی بیدار نہ ہوں تو یوں لگتا ہے کہ کسی نے مجھے زبر دستی اٹھا دیا ہے۔تہجد کی اتنی عادت تھی اور وقت پر اٹھ جایا کرتے تھے۔بیٹے نے گاڑی لی تو نصیحت کی کہ بیٹا اس میں کسی قسم کا کوئی ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈر یا ڈی وی ڈی (جو ہے ) نہیں لگانی۔اس کے بدلے سبحان اللہ اور درود شریف کا ورد کیا کرو اور خود بھی یہی کیا کرتے تھے۔چھوٹے بھائی نے بتایا کہ بچپن میں فٹ پاتھ پر بنے ہوئے چوکٹھوں پر چلتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اس چوکٹھے میں درود پڑھو، اس میں فلاں دعا پڑھو، اس میں فلاں دعا پڑھو۔بیٹے نے کہا کہ گاڑی کی انشورنس کروانی ہے تو انہوں نے کہا بیشک کر والولیکن انشورنس والے کمزور ہیں، تم ایسا کرو کہ گاڑی کے نام پر ہر ماہ چندہ دیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ حفاظت کرنے والا ہے۔چنانچہ اس ہدایت پر بھی عمل کیا گیا۔باکسنگ کے اچھے کھلاڑی تھے اور انہوں نے کافی انعامات جیتے ہوئے تھے۔129