شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 138
سے بہت جذباتی تھے۔اپنے آبائی گاؤں میں ان کا اکیلا احمدی گھر تھا۔ایک دفعہ مخالفین نے جلسہ کیا اور لاؤڈ سپیکر میں جماعت کے خلاف سخت بدزبانی کی۔رات کا وقت تھا، یہ چپکے سے گھر سے نکلے اور وہاں جا کر ان کوسختی سے کہا کہ یہ بدکلامی بند کرو اور اونچی آواز کو بند کرو اور اگر کوئی بات کرنی ہے تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کر لو۔جس پر مخالفین نے لاؤڈ سپیکر کی آواز بند کر دی۔واپس آنے پر اہلیہ نے کہا آپ اکیلے چلے گئے تھے مخالفین اتنے زیادہ تھے اگر وہ آپ کو مار دیتے تو کیا ہوتا۔تو جواباً کہا زیادہ سے زیادہ شہید ہو جاتا، اس سے اچھا اور کیا تھا؟ لیکن مجھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے سلسلہ کے خلاف بدزبانی سنی نہیں جارہی تھی۔مکرم ڈاکٹر اصغر یعقوب خان صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم ڈاکٹر اصغر یعقوب خان صاحب شہید ابن مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب کا۔شہید مرحوم صاحب کے والد 1903ء میں بٹالہ میں پیدا ہوئے۔ان کے دادا حضرت شیخ عبدالرشید خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے۔ان کے والد اور ان کے نانا حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے معالج کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔شہید مرحوم 25 اگست 1949 ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ایف ایس سی کے بعد ایم ایس سی بائیو کیمسٹری میں کیا اور پھر ایم بی بی ایس کی ڈگریاں لیں۔بوقتِ شہادت ان کی عمر 60 سال تھی۔مسجد دارالذکر میں جام شہادت نوش فرمایا اور ماڈل ٹاؤن لاہور میں تدفین ہوئی۔عموماً نماز جمعہ کڑک ہاؤس میں ادا کیا کرتے تھے۔کبھی کبھی دارالذکر بھی چلے جاتے۔سانحہ کے روز بیٹے کو کالج چھوڑنے گئے اس کے بعد قریب ہی دارالذکر چلے گئے۔ایک بج کر چالیس منٹ کے قریب یہ مسجد میں داخل ہوئے۔اسی دوران گیٹ کے قریب ہی دہشتگردوں کی فائرنگ شروع ہوئی۔چھاتی اور ٹانگ میں گولیاں لگیں، تھوڑی دیر تک ہوش میں رہے۔ایمبولینس میں اپنا نام 138