شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 139
وغیرہ بتایا تا ہم ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں شہید ہو گئے۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کرنے والے تھے۔کبھی کسی امیر وغریب میں فرق نہیں کیا۔سب سے ایک جیسا ہمدردانہ سلوک کرتے تھے۔مریضوں کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا تھا۔جب بھی کوئی ضرورتمند آ جاتا آپ خدمت کے لئے تیار ہوتے اور ہمیشہ ہر ایک کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے۔شہید مرحوم کے ایک عزیز نے سانحہ سے ایک روز قبل خواب میں دیکھا تھا کہ میرے والد ڈاکٹر وسیم صاحب قبر کھودرہے ہیں اور ساتھ روتے ہیں کہ میرے کسی عزیز کی قبر ہے۔خدا تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔مکرم میاں محمد سعید در د صاحب شہید اگلا ذکر ہے مکرم میاں محمد سعید درد صاحب شہیدا بن مکرم حضرت میاں محمد یوسف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد گجرات کے رہنے والے تھے۔پھر قادیان شفٹ ہو گئے۔ان کے والد حضرت میاں محمد یوسف صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دادا حضرت ہدایت اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے اور انہوں نے 1900ء میں بیعت کی تھی۔شہید مرحوم کے والد صاحب پارٹیشن تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔اس کے علاوہ نائب امیر ضلع لاہور بھی رہے۔شہید مرحوم 1930ء میں گجرات میں پیدا ہوئے۔پیدائش کے بعد گھر والے قادیان شفٹ ہو گئے چنانچہ آپ نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔مولوی فاضل پاس کرنے کے بعد بی اے کیا اور بعد میں نیشنل بینک میں ملازمت اختیار کی جہاں سے 1970 ء میں مینجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔زندگی میں چھ مرتبہ حج اور متعدد بار عمرہ کرنے کی سعادت بھی ملی۔شہادت کے وقت ان کی عمر 80 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں جام شہادت نوش فرمایا۔قریباً ایک بجے بیت النور ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے۔جنرل ناصر صاحب کے ساتھ ویل چیئر پر بیٹھے تھے۔دو گولیاں ٹانگ میں اور ایک بازو 139