شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 137

مکرم نثار احمد صاحب شہید دوسرا ذکر ہے مکرم نثار احمد صاحب شہید ابن مکرم غلام رسول صاحب کا۔شہید مرحوم کے آبا و اجداد کا تعلق ضلع نارووال سے تھا۔ان کے دادا حضرت مولوی محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امرتسر کے رہنے والے تھے۔یہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔شہید مرحوم سترہ سال کی عمر میں لاہور آ گئے اور اشرف بلال صاحب جو اس سانحہ میں شہید ہو گئے ہیں ان کی فیکٹری میں کام شروع کیا ، ان کے ساتھ ہی رہے۔شہادت کے وقت شہید کی عمر 46 سال تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔مسجد دارالذکر میں اشرف بلال صاحب کو بچاتے ہوئے انہوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔عموماً نماز جمعہ دارالذکر میں ہی ادا کرتے اور بچوں کو بھی ساتھ لاتے۔سانحہ کے روز بھی بچوں کو ساتھ لے کر آئے۔نماز جمعہ سے قبل صدقہ دینا ان کا معمول تھا۔بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے کہ اس سے ثواب ہوتا ہے۔سانحہ کے روز بھی صدقہ دیا۔ایک بیٹے نے کہا کہ میری طرف سے بھی صدقہ دیں۔انہوں نے کہا کہ بیٹا آپ خود اپنے ہاتھ سے صدقہ دیں۔بعد میں پتہ چلا کہ بیٹے کی طرف سے بھی ادا شدہ صدقہ کی رسید ان کی جیب میں موجود تھی۔فائرنگ کے دوران اشرف بلال صاحب جو شدید زخمی ہو گئے ،جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں، ان کو بچانے کے لئے ان کے اوپر لیٹ گئے۔اسی دوران ایک دہشتگرد نے گولیوں کی بوچھاڑ ماری جس سے آپ کی کمر چھلنی ہوگئی اور آپ موقع پر شہید ہو گئے۔شہید مرحوم نے سانحہ سے دس دن قبل خواب میں دیکھا تھا کہ والدین مرحومین سے ملاقات ہوئی ہے۔والدین کہتے ہیں کہ بیٹا ہمارے پاس ہی آکر بیٹھ جاؤ۔اہلِ خانہ نے بتایا کہ تہجد اور نمازوں میں با قاعدہ تھے۔شادی کے پچیس سالہ عرصہ میں کبھی سختی سے بات نہیں کی۔دونوں بچوں کو وقف نو کی بابرکت تحریک میں پیش کیا۔والدین کی وفات سے قبل بھر پور طریقے سے والدین کی خدمت کا موقع ملا۔خدمت خلق کا بہت شوق اور جذبہ تھا۔احمدیت کے حوالے 137