شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 37 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 37

جاسکتا ہے۔ایک ایسا شخص جو کبھی کسی کو دُ کھ نہ دے اور ہر ایک کا کام بنا کسی بینچ پہنچ کے کرتا چلا جائے اور ہر بڑے چھوٹے کا کہا مانے تو اس کو عام محاورہ میں گائے کہا جاتا ہے کہ یہ تو آدمی نہیں گائے ہے۔جبکہ وہ گائے نہیں ہوتا لیکن چونکہ اس میں گائے کی صفات داخل ہو چکی ہوتی ہیں اسلئے اس کو گائے کہہ دیا جاتا ہے۔پس شری کرشن جی کے شاگردوں نے چونکہ اپنے اندر ایسی ہی صفات پیدا کر لی تھیں اس لئے ان کو شری کرشن جی کے ساتھ گائیوں کی شکل میں دکھایا جاتا ہے نہ کہ وہ حقیقی گائیں ہیں۔شری کرشن جی کی طرف جس قسم کی باتیں منسوب کی جاتی ہیں ایسی ہی باتیں دیگر انبیاء کی طرف بھی منسوب ہوتی رہی ہیں اور خاص طور پر حضرت داؤد علیہ السلام پر ایسی ہی تہمتیں لگائی جاتی رہیں اور ان کی طرف عشق و محبت کے افسانے منسوب کئے جاتے رہے ہیں۔جس طرح ان پر لگائی جانے والی تہمتیں اور الزام درست نہیں۔اسی طرح شری کرشن جی پر لگائے جانے والے الزامات اور واقعات بھی درست نہیں۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ”ہندوؤں میں جو ایک نبی گزرا ہے جس کا نام کرشن تھا۔افسوس کہ جیسے داؤد نبی پر شریر لوگوں نے فسق و فجور کی تہمتیں لگا ئیں ایسی ہی تہمتیں کرشن پر بھی لگائی گئی ہیں اور جیسا کہ داؤ د خدا تعالیٰ کا پہلوان اور بڑا بہادر تھا اور خدا اس سے پیار کرتا تھا ویسا ہی آریہ ورت میں کرشن تھا۔پس یہ کہنا درست ہے کہ آریہ ورت کا دائڈ کرشن ہی تھا اور اسرائیلی نبیوں کا کرشن داؤڈ ہی تھا کیونکہ زمانہ اپنے اندر ایک گردش دوری رکھتا ہے اور نیک ہوں یا بد بار بار دنیا